.

اسلام کا ادنیٰ سپاہی اور آزادی کا محافظ ہوں: ایردوآن

ترک صدر کی کردوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے خود کو اسلام کا ’سپاہی‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے کرد آبادی کی حمایت کے حصول کے لیے بھی کوششیں تیز کردی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز جنوب مشرقی علاقے دیار بکر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ وہ اسلام کے ایک ادنیٰ درجے کے محافظ اور سپاہی ہیں۔ انہوں نے کردوں پر زور دیا کہ وہ دو ہفتے بعد ہونے والے اس دستوری ریفرنڈم کی حمایت کریں جس کے تحت صدر کو غیرمعمولی اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ جولائی 2015ء کو ترکی اور کرد علاحدگی پسندوں کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دوبارہ محاذ آرائی شروع ہوگئی تھی۔ چند سال پیشتر صدر ایردوآن ہی کی مساعی سے کرد علاحدگی پسندوں اور حکومت کے درمیان تین عشروں کی خون ریز لڑائی کے بعد سیز فائر معاہدہ طے پایاتھا۔

اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق کردستان ورکرز پارٹی اور [پی کے کے] اور ترکی سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجےنے میں دو ہزار افراد ہلاک اور قریبا نصف ملین نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

کرد اکثریتی علاقوں میں ’نیشنل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ کو غیر معمولی حمایت حاصل ہے۔ یہ جماعت کردوں کی حامی سمجھی جاتی ہے۔ ترک صدر نے ڈیموکریٹک پارٹی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے اسے علاحدگی پسندوں کا سیاسی چہرہ قرار دے رکھا ہے۔ گذشتہ روز دیار بکر میں ریفرنڈم کے حوالے سے منعقدہ ایک جلسے سے خطاب میں بھی صدر ایردوآن نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی کرد آبادی پر ریفرنڈم کی حمایت پر زور دیا۔

صدر ایردوآن کا کہنا تھ کہ ’پی کے کے‘ کے حامی مسلسل ‘امن، امن‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا امن اسلحہ اٹھانے سے قائم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام اور آزادی کے محافظ ہم ہیں۔ اس موقع پر ان کی پارٹی کے ہزاروں کارکنوں نے قومی پرچم اٹھا کر صدر کی تائید میں نعرے بھی لگائے۔

حکمراں جماعت ’آق‘ کو مشرقی ترکی میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل رہی ہے۔ مگر دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے 16 اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم میں کامیابی کے لیے کردوں کو دبانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ مشرقی ترکی میں کردوں کے پانچ پارلیمانی گروپ ہیں جن کی بیشتر قیادت اور منتخب ارکان پارلیمان پابند سلاسل ہیں۔ حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران 12 کرد ارکان پارلیمان اور ہزاروں کرد شہریوں کو علاحدگی پسندوں کی حمایت کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے علاحدگی پسند گروپ ’پی کے کے‘ سے لا تعلقی کا اعلان کیا ہے جب کہ امریکا اور یورپی یونین بھی ’پی کے کے‘ کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔