.

آزاد ہونے کے بعد سیف الاسلام قذافی کا مستقبل کیا ہوگا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جیل میں 5 برس سے زیادہ گزارنے کے بعد سیف الاسلام قذافی آزاد فضا میں سانس لے رہا ہے۔ اس کے باپ اور لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کے حامیوں نے سیف کو ایک مرتبہ پھر سیاسی منظر نامے میں واپس لانے کے لیے تگ و دو شروع کر دی ہے۔

کیا مستقبل میں سیف الاسلام اقتدار حاصل کرنے کے حوالے سے ایک مضبوط امیدوار ہوگا یا پھر اس کی واپسی کے امکان سے بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا؟

فی الوقت کوئی بھی اُس قدم کے بارے میں پیش گوئی نہیں کر سکتا جو سیف الاسلام قذافی جیل سے رہائی کے بعد اٹھائے گا۔ آیا وہ سیاسی مںظر نامے میں واپسی کا خواہش مند ہو گا یا پھر وہ حتمی طور پر دور جا کر روپوشی اپنا لے گا۔

اگر لیبیا کے سیاستی رجحانات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ معمر قذافی کا دوسرے نمبر کا یہ بیٹا ابھی تک لیبیا کے لوگوں کے درمیان مقبولیت رکھتا ہے۔ بالخصوص اس کے باپ کے ہمنوا قبائل میں جو ایک عرصے سے سیاسی جماعت بنانے کے ذریعے سیف کی واپسی اور اس جماعت کی قیادت کے انتظامات کر رہے ہیں۔

سیاسی تجربہ اور سماجی تعلقات

لیبیا میں قبائل کی سپریم کونسل کے ایک رکن اشرف عبدالفتاح کے مطابق "لیبیا کے عوام کی اکثریت کے نزدیک سیاسی تجربے اور لیبیا کے تمام علاقوں میں سماجی تعلقات کے پیشِ نظر سیف الاسلام وہ شخصیت ہے جو ملک کو اس صورت حال سے نکال کر امن کی جانب لا سکتی ہے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں عبدالفتاح کا کہنا تھا کہ "اس وسیع مقبولیت کے سبب سیف الاسلام اس بات کا اہل ہے کہ ملک کی قیادت کے سلسلے میں اس کا سیاسی مستقبل ہو کیوں کہ وہ ملک کو درپیش تمام تر مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان میں سرِ فہرست تمام قبائل کے درمیان سماجی مصالحت ہے۔ قبائلیوں کے درمیان اس کے احترام اور محبت کا واضح ثبوت سیف کی غیر موجودگی میں اس کے متعلق ہونے والی وہ سروے رپورٹیں ہیں جو لیبیائی اور غیر ملکی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئیں"۔

سیاسی کیرئر ختم

تاہم دوسری جانب لیبیائی عوام کے ایک دوسرے حلقہ سیف الاسلام کے نمودار ہونے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیف کے باپ کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی اس کا سیاسی مستبقل بھی ختم ہو چکا ہے۔ اس حلقے کے نزدیک سیف کی واپسی سے ملک کا سیاسی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کار فوزی الحداد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "موجودہ صورت حال میں سیف الاسلام کے کسی بھی کردار" کو خارج از امکان قرار دیا۔ الحداد کے مطابق با اثر حکم راں قوتیں کسی طور بھی اس کی واپسی پر آمادہ نظر نہیں آتیں۔ سیف کی واپسی کا مطلب ہوگا کہ اس کے باپ کے نظام سے نجات حاصل کرنے کے لیے دی گئی قربانیاں رائیگاں چلی گئیں۔

لیبیائی صحافی فرج محمد علی المالکی بھی اس رائے میں فوزی الحداد سے متفق نظر آتے ہیں۔ المالکی کے نزدیک "موجودہ منظر نامے میں سیف الاسلام کی موجودگی کم از کم چند مزید برسوں کے لیے امور کو پیچیدہ بنا دے گی۔ لیبیا میں اس کے لیے کوئی حقیقی بنیاد نہیں پائی جاتی اور اس کے حامی کوئی بڑا وزن نہیں رکھتے"۔