.

تیونس کے بعد الجزائر نے بھی ایرانی "جعل سازی" کو جُھٹلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر نے اتوار کے روز اُس بیان سے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے جو ایرانی میڈیا نے الجزائری وزیر اعظم عبدالملک سلال سے منسوب کیا تھا۔ منسوب بیان میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ایرانی وزیر ثقافت رضا صالحی امیری سے ملاقات کے دوران "دونوں ممالک نے خطے میں تکفیری نظریات اور سوچ کا مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا"۔

ایرانی وزیر ثقافت گزشتہ بدھ کو الجزائر کے دو روزہ دورے پر پہنچے تھے جہاں انہوں نے وزیر اعظم سمیت الجزائر کے کئی سینئر ذمے داران سے ملاقاتیں کیں۔

اس سے قبل تیونس کے ایوانِ صدارت نے بھی ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کی جانب سے تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی سے منسوب من گھڑت بیان کی تردید کر دی تھی۔ بیان میں دعوی کیا گیا تھا کہ تیونس کے صدر نے جمعے کے روز ایرانی وزیر ثقافت سے ملاقات کے دوران "خطے میں ایران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ عالم اسلام کو صہیونی قبضے کے وجود سے تحفظ فراہم کرنے والا ملک ہے"۔

الجزائر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالعزیز بن علی الشریف نے کہا ہے کہ " بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے الجزائر کے وزیراعظم اور ایرانی وزیر ثقافت کے درمیان ملاقات کے حوالے سے جو خبریں دی ہیں وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ملاقات میں بات چیت کا محور وہ ثقافتی پہلو تھے جن پر طرفین کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات اور تعاون کو مضبوط کیا جا سکے"۔

الجزائر کی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ملاقات میں "دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی تعاون کو بڑھانے اور سینیما کے میدان میں معاہدے پر دستخط کے حوالے سے گفتگو ہوئی"۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق دونوں شخصیات کی ملاقات میں "شدت پسندی اور تکفیری نظریات سے جنم لینے والے خطرات کے حوالے سے ایران اور الجزائر کے نقطہ ہائے نظر میں مطابقت ظاہر ہوئی اور اس طرزِ فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے ثقافت پر بطور ایک بنیادی ذریعے کے انحصار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا"۔

ایرانی وزیر صالحی کے حوالے سے یہ بھی ذکر کیا گیا کہ دونوں ممالک دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ میں تعاون قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔

الجزائر کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ ملاقات الجزائری وزیراعظم کے لیے ایک موقع تھا جس میں انہوں نے اپنے ملک کی اس امید کا اظہار کیا کہ ایران مشرق وسطی میں ایک مثبت کردار ادا کرے گا اور خطے میں اور خلیجِ عربی میں استحکام اور توازن کا عامل ثابت ہوگا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ عبدالملک سلال نے ملاقات میں باور کرایا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

ترجمان کے مطابق الجزائر کے وزیراعظم اُن تعلقات کی نوعیت کا ذکر کرنا نہیں بھولے جو ان کے ملک اور تمام خلیجی عرب ممالک کے درمیان قائم ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات کے قائل ہونے پر زور دیا کہ حالیہ وقت میں درپیش تمام مسائل کو رفع کرنے کے لیے واحد ذریعہ بات چیت ہے۔