.

یمن : لحج کے نزدیک حوثی باغیوں کا میدان جنگ سے اجتماعی فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شمالی صوبے عمران سے تعلق رکھنے والے حوثی باغیوں کے ایک کمانڈر نے سرکاری فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور یہ انکشاف کیا ہے کہ صوبہ لحج کے شمال میں واقع علاقے کرش سے حوثی باغی اجتماعی طور پر جنگ سے راہِ فرار اختیار کررہے ہیں۔

کرش محاذ پر یمنی فوج کے کرنل عبدالحکیم الشعیبی نے بتایا ہے کہ یہ حوثی لیڈر اس وقت زیر حراست ہے ،اس نے نیشنل آرمی سے پناہ طلب کی تھی اور اس کے بعد ہتھیار ڈال دیے ہیں۔اس نے یہ انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے چالیس جنگجو اس محاذ سے راہِ فرار اختیار کر گئے ہیں اور انھوں نے مزید لڑنے سے انکار کردیا ہے۔

درایں اثناء حوثی ملیشیا کے لیڈر عبدالملک الحوثی نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کو قیدیوں کے تبادلے کی پیش کش کی ہے۔

واضح رہے کہ حوثی ملیشیا کی حالیہ مہینوں کے دوران میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں اور یمنی فورسز کے ساتھ لڑائی میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد میدان جنگ میں لڑنے کے لیے اس کے جنگجوؤں کی تعداد کم پڑ گئی ہے۔اس صورت حال کے پیش نظر ہی عبدالملک الحوثی نے یمنی حکومت کو قیدیوں کے تبادلے کی پیش کش کی ہے۔

بعض مبصرین کے مطابق یمنی فوج نے حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں کی بازیابی کے لیے مختلف نئے محاذ جنگ کھول لیے ہیں اور حوثی جنگجوؤں کے لیے ان تمام محاذوں پر سرکاری فوج سے نبرد آزما ہونا مشکل ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ یمن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی سرداروں نے بھی حوثیوں کی حکومت کے خلاف اس جنگ میں اپنے مزید جنگجو جھونکنے سے انکار کردیا ہے جس کی وجہ سے حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں کی تعداد اب وقت کے ساتھ ساتھ کم پڑتی جارہی ہے۔