.

داعش ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے ہوائی اڈوں کے لیے خطرہ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش نے لیپ ٹاپ اور موبائل فون کے اندر دھماکا خیز مواد نصب کرنے کے ایسے طریقے پیدا کر لیے ہیں جن کے ذریعے ہوائی اڈوں پر موجود سکیورٹی جانچ کی نظر میں آئے بغیر ان بارودی آلات کو خفیہ طور منتقل کیا جا سکتا ہے۔

برطانوی اخبار "Mirror" کے مطابق برطانیہ میں سکیورٹی اداروں نے ہوائی اڈوں اور نیوکلیئر توانائی کے مراکز کو ہدایت جاری کر دی ہیں کہ وہ دہشت گرد حملوں کے مقابل اپنے دفاعی اقدامات کو مزید سخت کر دیں۔

غالبا یہ ہی وہ نئی معلومات ہیں جن کی بنیاد پر امریکا اور برطانیہ نے متعدد ممالک کے مسافروں پر لیپ ٹاپ اور دیگر بڑے الکٹرونک آلات طیاروں کے اندر لانے پر پابندی عائد کی ہے۔

اس وقت یہ اندیشہ ہے کہ دہشت گرد یورپی اور امریکی ہوائی اڈوں پر سکیورٹی جانچ کی مشینوں کو چکمہ دینے کے لیے خاص ٹکنالوجی کا استعمال کریں گے۔

امریکی ایف بی آئی کے ماہرین نے اس بات کا تجربہ کیا ہے کہ لیپ ٹاپ کی بیٹری میں دھماکا خیز مواد کو کس طرح سے چھپایا جا سکتا ہے جب کہ بظاہر وہ کام کرتا ہوا نظر آ رہا ہو۔

گزشتہ برس صومالیہ کی عسکریت پسند تنظیم حرکت الشباب نے دارالحکومت موگادیشو سے پڑوسی ملک جیبوتی جانے والے مسافر طیارے میں بم دھماکا کیا تھا۔ کارروائی کے لیے دھماکا خیز مواد کو ایک لیپ ٹاپ کے اندر چھپایا گیا تھا۔ تخریب کاروں نے لیپ ٹاپ میں "ڈی وی ڈی پلیئر" کی جگہ بم نصب کر دیا تھا۔ یہ دھماکا کھڑکی کے نزدیک ہوا تھا تاہم طیارہ محفوظ رہا۔