.

سینٹ پیٹرزبرگ: میٹرو میں خودکش دھماکا کرنے والے کرغیز بمبار کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک میٹرو ٹرین میں خودکش بم دھماکا کرنے والے مشتبہ حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے۔روسی حکام کے مطابق اس کا تعلق مسلم اکثریتی ریاست کرغیزستان سے تھا۔اس مشتبہ بمبار کا نام اکبرژون جلیلوف بتایا گیا ہے۔

اس مشتبہ حملہ آور کے سخت گیروں سے مبینہ طور پر روابط تھے۔روسی میڈیا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کے حوالے سےبتایا ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ حملہ آور داعش سے متاثر تھا لیکن ابھی تک کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

کرغیز حکام کے مطابق مشتبہ بمبار اکبرژون جلیلوف اوش شہر میں 1995ء میں پیدا ہوا تھا۔روسی حکام نے بھی اس کی شناخت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے ایک اور میٹرو اسٹیشن پر بھی بم رکھا تھا۔

اس بمبار کے بارے میں اب تک جو تفصیل سامنے ہے،اس کے مطابق وہ سینٹ پیٹرزبرگ ہی میں مقیم تھا اور ایک روایتی نوجوان تھا،جس کو اسلام سے دلچسپی تھی۔ وہ پاپ موسیقی اور مارشل آرٹس کا بھی دلدادہ تھا اور بظاہر اس کے جنگجوؤں سے کوئی روابط نہیں تھے۔

اس کے چچا ایمن ژون جلیلوف نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ ان کا بھتیجا نماز کے لیے مسجد میں جایا کرتا تھا لیکن وہ جنونی نہیں تھا۔

واضح رہے کہ میٹرو ٹرین کی ایک بوگی میں سوموار کی دوپہر اس وقت بم دھماکا ہوا تھا جب میٹرو ٹرین زیر زمین ایک گہری سرنگ سے گزر رہی تھی۔اس سے دھماکے کی بہت زیادہ گونج دار آواز پیدا ہوئی تھی اور دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی طاقت سے بوگی کا دروازہ اڑ گیا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق اس کے بعد خون آلود زخمی مسافر اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ہر طرف بکھری پڑی تھیں۔ روسی حکام کے مطابق اس تباہ کن بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چودہ ہوگئی ہے اور پچاس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اگر اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ میٹرو ٹرین میں بم دھماکا کرنے والے کا انتہاپسندوں سے تعلق تھا تو اس سے ان روسیوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ سکتی ہے جو روس کی شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں فوجی مداخلت کے فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں۔

مشتبہ خودکش بمبار اکبرژون جلیلوف
مشتبہ خودکش بمبار اکبرژون جلیلوف