.

سینٹ پیٹرز برگ خود کش بمبار کا تعلق وسطی ایشیا سے ہے:روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ گذشتہ روز سینٹ پیٹرزبرگ کے زیرِ زمین میٹرو اسٹیشن میں ہونے والے دھماکے کا مشتبہ ملزم وسطی ایشیا سے ہے۔

روس کی انٹر فیکس انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق سینٹ پیٹرز برگ میں گذشتہ روز خودکش دھماکہ کرنے والے شخص کی نشاندہی کر لی گئی ہے تاہم اس بارے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ آیا وہ شخص خود کش بمبار تھا۔

روس کے میڈیا کے مطابق مشتبہ شخص کی عمر 23 سال کے قریب ہے اور وہ سینٹرل ایشیا سے ہے۔ وہ ایک بیگ میں باروی مواد لے کر سینٹ پیٹرز برگ کے میٹرو اسٹیشن پر پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی مقدار 200 سے 300 گرام تک ہو سکتی ہے۔ دھماکے کے لیے انتہائی تباہ کن ’ٹی این ٹی‘ مواد استعمال کیا گیا۔

خیال رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ کے زیرِ زمین میٹرواسٹیشن میں پیر کو ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم 11 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے تھے۔

روس کی قومی انسدادِ دہشت گرد کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ سنایا پلوشیڈ اور اس کا قریبی ٹیکنالوجسکی انسٹیٹیوٹ سٹیشن بنے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق کیمروں کی مدد سے میٹرو اسٹیشن پر دھماکے کے مشتبہ ملزم کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ادھر روسی صدر ولادی میرپوتن نے واقعے کے بعد انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے ایک اجلاس کی صدارت کی ہے۔ اجلاس میں سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والے دھماکے کے بعد سیکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔