.

شامی عوام بشارالاسد کو نہیں چاہتے:امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں متعین امریکی خاتون سفیر نیکی ہالے نے کہا ہے کہ ان کا ملک یہ سمجھتا ہے کہ شامی عوام اب بشارالاسد کو مزید نہیں چاہتے۔

نیویارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسز ہالے نے کہا کہ شامی عوام اب بشارالاسد سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ وہ انہیں مزید اقتدار پر فائز دیکھنا نہیں چاہتے۔

پریس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ میں ایریکی سیفرہ سے پوچھا گیا کہ وہ ایک ہفتہ قبل امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے اس بیان پر کیا تبصرہ کریں گی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ شامی عوام کریں گے۔

اس سوال پر مسٹر ہالے نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ شامی عوام بشارالاسد کو اب اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ شامی عوام نے بشارالاسد کو کئی سال پہلے مسترد کردیا تھا۔

نیکی ہالے نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا آئندہ انتخابات میں صدر بشارالاسد کی شمولیت کو قبول کرے گا۔

امریکی سفیرہ کا کہنا تھا کہ بشارالاسد ایک ایسے شخص ہیں جنہیں اب شامی عوام نہیں چاہتے، میرا خیال ہے کہ شفاف انتخابات کی صورت میں عوام بشارالاسد کو مسترد کردیں گے۔

نیکی ہالےنے کہا کہ امریکا بشارالاسد کے بارے میں کوئی نئی پالیسی نہیں بنا رہا ہے۔ ہم ایک عرصے سے کہتے آ رہے ہیں کہ بشارالاسد امن کی راہ میں رکاوٹ اور جنگی مجرم ہے۔ اس نے جو کچھ اپنی قوم کے ساتھ کیا وہ انتہائی شرمناک اور المناک ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے بشارالاسد کو اقتدار سے نکالنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کوششیں شروع کی تھیں مگر دونوں ملکوں کی داعش کے خلاف جنگ پر توجہ نے بشارالاسد کے خلاف کوئی متفقہ لائحہ عمل اپنانے کا موقع نہیں مل سکا۔

موجودہ امریکی انتظامیہ بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے میں زیادہ گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے۔ امریکی حکومت کی توجہ صرف داعش کو شکست دینے پرمرکوز ہے۔