.

چین کا سرکاری میڈیا شی ،ٹرمپ ملاقات پر مطمئن و مسرور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے سرکاری میڈیا نے صدر شی جین پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ اس سے دنیا پر یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی کوئی ناگزیر نہیں ہے۔

سرکاری اخبار چائنا ڈیلی نے لکھا ہے کہ دو روزہ سربراہ ملاقات حوصلہ افزا رہی ہے کیونکہ پہلے واشنگٹن کی جانب سے امریکا ،چین تعلقات کے حوالے سے کنفوژن والے اشارے سامنے آئے تھے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میں اور صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے چین مخالف بیانات جاری کیے تھے جس سے بیجنگ نالاں ہوا تھا۔اس کے علاوہ انھوں نے خود مختار جزیرے تائیوان کے صدر سے بھی بات کی تھی جبکہ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔

لیکن دونوں لیڈروں نے فلوریڈا میں ٹرمپ کے مار اے لاگو ریزارٹ میں ملاقات کے دوران میں کسی سفارتی محاذ آرائی سے گریز کیا ہے۔ البتہ اس بات چیت میں صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب پر زوردیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔ انھوں نے امریکی برآمدات بڑھانے اور چین کے ساتھ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ایک سو دن کے مذاکراتی منصوبے سے بھی اتفاق کیا ہے۔

چائنا ڈیلی نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ دونوں فریقوں نے تعمیری تعلقات کے حوالے سے ایک جیسے برابر جوش وخروش کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ بات شاید ان لوگوں کے لیے حیرت کا باعث ہو، جو دونوں طاقتوں کے درمیان ’’ ناگزیر‘‘ تنازعے کے منظرنامے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔

’’ لیکن بیجنگ اور واشنگٹن اب تک تنازعات سے بچاؤ میں کامیاب رہے ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محاذ آرائی کوئی ناگزیر چیز نہیں ہے‘‘۔ اخبار نے مزید لکھا ہے۔

چین کے سرکاری ٹیبلائیڈ گلوبل ٹائمز نے لکھتا ہے:’’ یہ ملاقات اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ جنوری میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے چین ،امریکا تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور اس بات کا امکان تھا کہ دونوں ممالک مزید مثبت تعلقات قائم کریں گے‘‘۔

چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار پیپلز ڈیلی نے بھی اس سربراہ ملاقات کے حوالے سے اسی طرح کے مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس سے امریکا ،چین تعلقات میں پیش رفت کا اندازہ ہوتا ہے۔تاہم ان چینی اخبارات میں امریکا کے شام میں صدر بشارالاسد کے ایک فوجی اڈے پر میزائل حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

چین کی پیکنگ یونیورسٹی میں بین الاقوامی مطالعات کے پروفیسر وانگ ڈانگ کاکہنا ہے کہ اس حملے سے ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک پیغام دیا ہو لیکن چین کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ شام اور جزیرہ نما کوریا کی صورت حال میں بہت فرق ہے اور امریکا شمالی کوریا پر کوئی حملہ کرتا ہے تو وہ جواب میں جنوبی کوریا پر روایتی ہتھیاروں سے حملہ کرسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ شمالی کوریا کے خلاف طاقت کے استعمال یا حفظ ماتقدم کے طور پر فضائی حملوں کے سنگین مضمرات ہوں گے اور غالباً ان کے شام کے مقابلے میں مختلف نتائج برآمد ہوسکتے ہیں‘‘۔