.

مقبوضہ کشمیر :بھارتی فورسز سے جھڑپ میں چار حریت پسند مارے گئے

وادی میں علاحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر بھارتی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں کے خلاف مکمل ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں فوج کے ساتھ ایک مبیّنہ جھڑپ میں چار مشتبہ حریت پسند مارے گئے ہیں جبکہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں کے خلاف علاحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی گئی ہے اور سوموار کے روز کم وبیش تمام کاروباری مراکز اور اسکول بند رہے ہیں۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شب پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر سے چار مشتبہ جنگجو بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں گھس آئے تھے جس کے بعد ان کی لائن آف کنٹرول پر کرن سیکٹر میں تعینات فوجیوں کے ساتھ جھڑپ شروع ہوگئی تھی اور اس میں یہ چاروں جنگجو مارے گئے ہیں۔

بھارتی فوج کے ترجمان کے اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔ دریں اثناء علاحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر پوری وادیِ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی ہے اور کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا۔

ریاست کے دارالحکومت سری نگر میں اتوار کے روز ضمنی انتخاب کے موقع پر مختلف علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں اور ان میں آٹھ کشمیری شہید اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے بھی کم سے کم ایک سو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

کشمیر کی مختلف حریت پسند تنظیموں اور علاحدگی پسند دھڑوں نے بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا کی ایک نشست پر اتوار کو ضمنی انتخاب کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی جس کے پیش نظر ریاستی حکومت نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے جبکہ ووٹروں کی بہت تھوڑی تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ مراکز پر آئی تھی۔تشدد کے واقعات کی وجہ سے کم سے کم ستر پولنگ اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا تھا۔بعض مقامات پر مظاہرین نے ووٹ مشینوں کو توڑ پھوڑ دیا یا انھیں جلا دیا تھا۔

ریاست کے چیف الیکٹورل افسر شانت منو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات تسلیم کی تھی کہ ضمن انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی شرح صرف سات فی صد تک رہی ہے۔ گذشتہ پانچ عشروں میں مقبوضہ کشمیر میں کسی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی یہ سب سے کم شرح ہے۔

لوک سبھا کی ایک اور نشست کے لیے ضمنی انتخاب بدھ 12 اپریل کو ہورہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے اضلاع اننت ناگ ، شوپیاں ،پلوامہ اور کولگام میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ان دونوں نشستوں کے ابتدائی نتائج کا اعلان 15 اپریل کو متوقع ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند قیادت بھارت کے زیر انتظام مرکزی اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتی چلی آرہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بھارت ریاست پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے انتخابات کا یہ ڈھونگ رچا رہا ہے جبکہ بھارت ان کے نتائج کو اپنے قبضے کے جواز کے طور پر پیش کرتا چلا آ رہا ہے۔