.

'ممنوعہ حد' پار کرنے پر بشار کے اتحادیوں نے امریکا کو خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس، ایران اور بشار الاسد نواز ملیشیاؤں پر مشتمل مشترکہ کمانڈ سینٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ کے روزحمص میں ایک شامی ائر بیس پر میزائل حملہ کر کے امریکا نے تمام حدیں پار کر دیں۔ کمانڈ سینٹر کے مطابق" کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اپنے اتحادی 'بشار الاسد' کی حمایت میں اضافہ کر رہے ہیں۔"

امریکا نے جمعہ کے روز حمص میں الشیعرات ائر بیس پر درجنوں ٹام ہاک میزائلوں سے حملہ کیا تھا جہاں سے واشنگٹن کے بقول چند روز قبل مہلک کیمیائی گیس والے ہتھیار استعمال کئے گئے تھے۔ حملے سے شامی بحران میں امریکا کا کردار ابھر کر سامنے آیا جس پر بشار الاسد کے اتحادی ایران اور روس نے تنقید کی۔

'اعلام الحربی' یعنی وار میڈیا پر جاری بیان میں مشترکہ کمان سینٹر کا کہنا تھا کہ امریکا نے شام پر جارحیت کا ارتکاب کر کے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اس کے بعد ہم ریڈ لائن عبور کرنے والے کسی بھی جارح کو پوری طاقت سے جواب دیں گے۔ امریکا، جوابی وار کرنے کی ہماری صلاحیت سے بخوبی آگاہ ہے۔

پوتن - روحانی رابطہ

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کیا اور شام میں جاری صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

کریملن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دونوں رہنمائوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے شام پر جارحیت ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

دونوں رہنمائوں نے ادلب میں کیمیائی حملے کی غیر جانبدار تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔