.

جی 7 ممالک شام اور روس مخالف نئی پابندیوں پر سمجھوتے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک پر مشتمل گروپ کے وزرائے خارجہ شام اور روس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عاید کرنے کے لیے اتفاق رائے میں ناکام رہے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے شام اور روس کے خلاف مزید نئی پابندیاں عاید کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن گروپ سات کے وزرائے خارجہ کے درمیان اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکا ہے۔

اطالوی وزیر خارجہ اینجلینو الفانو نے تسکانی میں گروپ سات کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کے بعد منگل کے روز کہا ہے کہ ’’نئی پابندیوں کی تجویز کے لیے وسیع تر حمایت نہیں حاصل ہوسکی ہے اور نئی پابندیوں کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔میں اپنے ساتھی بورس جانسن کا حوالہ دے رہا ہوں جنھوں نے اس ایشو کو اٹھایا تھا۔جی سیون کا موقف بڑا واضح ہے۔ہم پہلے سے متعارف کردہ پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔

اطالوی حکام کے تخمینے کے مطابق روس پر 2014ء میں یوکرین کی ریاست کریمیا کو ضم کرنے کے ردعمل میں عاید کردہ پابندیوں سے اٹلی کو کاروباری خسارے کی شکل میں چار ارب یورو کا نقصان ہوچکا ہے۔ چنانچہ روم نے ماضی میں روس پر نئی پابندیاں عاید کرنے کی کوششوں کی حمایت نہیں کی تھی۔

وزیر خارجہ الفانو کا کہنا تھا کہ گروپ سات روس کو الگ تھلگ نہیں کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ ماسکو کے ساتھ ایک تعمیری تعلق استوار کرنا چاہتا ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ ژاں مارک آیرو کا کہنا ہے کہ امریکا ، جرمنی ، کینیڈا ، اٹلی ،فرانس اور جاپان کے وزرائے خارجہ نے برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کی نئی پابندیوں کی تجویز پر کوئی زیادہ غور نہیں کیا ہے اور ان کے سوا کسی اور نے اس پر اصرار بھی نہیں کیا تھا۔

تاہم بعد میں بورس جانسن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید پابندیاں عاید کرنے کے لیے گروپ سات میں مشروط طور پر اتفاق رائے ہوگیا ہے اور وہ یہ اگر شام کے قصبے خان شیخون پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں ملوّث فریقوں کے خلاف شواہد مل جاتے ہیں تو پھر ان کے خلاف مزید پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’برطانیہ اور اس کے یورپی اتحادی کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم کی تحقیقات کے نتائج کے منتظر ہیں۔اب تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ روس کو زہریلی گیس سے حملے کے منصوبے کا علم تھا۔ہم یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ آیا روس اس حملے میں ملوّث بھی ہے یا نہیں‘‘۔

شام میں مظاہرے

دریں اثناء شام کے دارالحکومت دمشق میں سیکڑوں طلبہ نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر امریکا کے حمص میں ایک فوجی اڈے پر میزائل حملے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

مظاہرین نے احتجاجی مظاہرے کے دوران میں دو ستاروں والا شامی حکومت کا پرچم اور صدر بشارالاسد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔انھوں نے کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا:’’ عراق دوبارہ نہیں ہوگا ،یہ اسد کا شام ہے اور صدر ٹرمپ دہشت گردی کی حمایت کررہے ہیں۔بعض مظاہرین نے امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔

امریکا کے جنگی بحری جہازوں نے گذشتہ جمعہ کو شام کے وسطی شہر حمص کے نواح میں واقع ایک فوجی اڈے پر 59 ٹوماہاک میزائل داغے تھے۔اس اڈے کے بارے میں امریکا کو یقین ہے کہ یہیں سے شامی طیاروں نے اڑان بھر کر خان شیخوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 87 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

شامی حکومت نے امریکا کے اس میزائل حملے کو احمقانہ قرار دیا ہے۔اس کا یہ موقف ہے کہ اس کا زہریلی گیس کے اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ روس نے خان شیخون پر کیمیائی حملے کے باوجود صدر بشارالاسد کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔