.

‘ایرانی اصلاح پسند اور حکومت ایک ہی سکے کے دو رخ‘

روحانی نے اسد رجیم کی حمایت کرکے اپنی اصلیت بتا دی: مجاھدین خلق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ولایت فقیہ کے نظام کی مخالف تنظیم ’مجاھدین خلق‘ نے ایرانی اصلاح پسندوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایرانی اصلاح پسند دوغلی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔ ان کی دوغلی پالیسی کا اظہار اصلاح پسند ایرانی صدر کی طرف سے شام میں اسد رجیم کی غیرمشروط حمایت سے صاف دکھائی دیتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ‘مجاھدین خلق‘ کے ترجمان اور ایرانی قومی مزاحمتی کونسل کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین محمد محدثین نے کہا کہ صدر حسن روحانی خود کو اصلاح پسندوں کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے ایک بیان نے ایرانی اصلاح پسندوں کی حقیقت اور اصلیت کا پردہ چاک کردیا ہے۔ اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ نام نہاد اصلاح پسند اور ولایت فقیہ دونوں خطے کے ممالک میں مداخلت اور دہشت گردی برآمد کرنے پر متفق ہیں۔

محمد محدثین کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر حسن روحانی کی طرف سےشام میں نہتے شہریوں کے قتل عام میں ملوث بشارالاسد سے رابطہ اور انہیں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی حکومت اور اصلاح پسند اپوزیشن ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں شامی رجیم کی غیرمشروط حمایت کرکے نہتے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں مدد فراہم کررہے ہیں۔

انہوں نے اصلاح پسند ایرانی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صدر روحانی کس جواز کے تحت نصف ملین شامیوں کے قتل عام کی مرتکب اسد رجیم کی حمایت کررہے ہیں۔ وہ گذشتہ 38 سال سے شامی عوام پر طاقت کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر خود کو اصلاح پسندوں کا نمائندہ قرار دینے کے باوجود شام میں نہتے شہریوں کے قتل عام کے لیے کیے گئے کیمیائی حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان میں اور ایرانی ولایت فقیہ کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا ہے۔