.

اردن : امریکی طیارے پر حملے کی سازش،تین مجرموں کو 15، 15 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی ایک اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے بدھ کے روز تین مشتبہ افراد کو حملوں کی سازش اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے رقوم مہیا کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پندرہ ،پندرہ سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

استغاثہ کے مطابق محکمہ سراغرسانی نے گذشتہ سال جولائی میں ان مجرموں کی دہشت گردی کے ایک حملے کی سازش کو ناکام بنایا تھا۔ان تینوں نے دارالحکومت عمان کے مارکا ہوائی اڈے پر ایک امریکی طیارے ،ایک فوجی بس ،غیر ملکی سیاحوں اور ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ کو اپنے حملوں میں نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بطرا نے عدالت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان تینوں میں مرکزی مشتبہ مجرم 2012ء میں اردن سے یمن گیا تھا اور اس نے وہاں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔اس کو وہاں یمنی سکیورٹی سروسز نے گرفتار کر لیا تھا اور پھر اس کو ایک بحالی مرکز میں بھیج دیا تھا جہاں وہ دو سال تک رہا تھا۔اس مرکز میں قیام کے دوران میں وہ یمنی القاعدہ کے دو ارکان سے متعارف ہوا تھا۔ اردن واپسی پر وہ ان دونوں سے رابطے میں رہا تھا اور پھر وہ یمن میں ایک اور شخص سے بھی متعارف ہوا تھا۔

اس مرکزی مجرم نے 2015ء میں ٹیلی گرام ایپلی کیشن کے ذریعے القاعدہ کے ایک رکن سے برقی مراسلت کی تھی اور اس کو یہ بتایا تھا کہ اس نے مارکا کے ہوائی اڈے پر ایک امریکی طیارے کو دیکھا ہے۔چنانچہ اس نے یمن میں القاعدہ کے ارکان سے مل کر اس امریکی طیارے کو راکٹ گرینیڈ سے نشانہ بنانے کی سازش تیار کی تھی۔اس کو یہ راکٹ گرینیڈ شام سے بھیجا جانا تھا۔اس سے انتظار کرنے کا کہا گیا تھا لیکن پھر اس کا القاعدہ کے ارکان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

2016ء کے اوائل میں مرکزی مجرم نے شام جاکر وہاں القاعدہ میں شمولیت اختیار کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا تھا اور پھر اس نے اردنی سرزمین پر از خود ہی دہشت گردی کی کارروائیوں کا فیصلہ کیا تھا۔اس دوران میں اس کے یمن میں القاعدہ سے پھر روابطہ بحال ہوگئے تھے اور اس نے انھیں دہشت گردی کی کارروائیوں کو عملی جامہ پہنانے کی پیش کش کی تھی۔

اس کو القاعدہ تنظیم کی جانب سے مادی مدد اور مشاورت مہیا کرنے کی پیش کش کی گئی تھی۔ پھر انھوں نے ان کارروائیوں کے لیے اس کا دو اور مشتبہ افراد سے رابطہ کرا دیا تھا اور انھوں نے اس مرکزی مجرم کی کمان میں اردن میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی ہامی بھری تھی۔

یہ مرکزی مجرم عمان میں اردنی فوجیوں کو لے جانے والی بس کے اوقات کی نگرانی کرتا رہا تھا اور اس کے بارے میں اس نے القاعدہ تنظیم کو تفصیلی رپورٹس فراہم کی تھیں۔ القاعدہ کے ارکان نے اس کو بتایا تھا کہ وہ یمن سے آنے والے کسی فرد کے ہاتھ اس کو دھماکا خیز مواد اور چھے ہزار ڈالرز کی رقم بھیج دیں گے تاکہ وہ ہتھیار اور حملے میں استعمال کے لیے ایک کار کو خرید کر سکے لیکن اس تمام سازش پر عمل سے پہلے ہی ان تینوں کو اردنی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا تھا۔