.

اسکندریہ چرچ کا مبینہ خود کش بمبار شام میں مقیم؟

مبینہ بمبار کے بھائی کی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں اتوار کو قبطی عیسائیوں کے گرجا گھروں میں ہونے والے حملوں کے بعد ان دھماکوں کے منصوبہ سازوں کے بارے میں اہم تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

مصری حکام نے اسکندریہ شہرمیں قائم گرجا گھر میں اتوار کے روز مبینہ خود کش حملہ کرنے والے بمبار کی شناخت اشرف جابر ابو نعامہ المعروف ابو البراء کے نام سے کی ہے۔ اس کا تعلق کفر الشیخ گورنری کے ابو طبل قصبے سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابو نعامہ نے اتوار کو اسکندریہ میں واقع گرجا گھر میں گھسنے کی ناکام کوشش کے بعد اس کے باہر لگے ڈیٹکٹر گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت ایک درجن افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مصری فوج اور پولیس کی طرف سے مشبہ خود کش بمبار قراردیئے گئے شخص کے بھائی سے اس بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے۔

مشتبہ خود کش بمبار کے بھائی محمد جابر نے اسکندریہ چرچ میں خود کش حملے میں اپنے بھائی کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اشرف چار سال قبل شام گیا اور واپس نہیں لوٹا۔ وہ اس وقت داعش کے پاس ہے۔ داعشی جنگجوؤں نے اس کا پاسپورٹ بھی قبضے میں لے رکھا ہے۔

محمد جابر نے بتایا ذرائع ابلاغ پر اسکندریہ چرچ پر حملے کے بمبار کی جو تصاویر جاری کی گئی ہیں وہ اس کے بھائی کی نہیں۔ اس کے بھائی کا قد چھوٹا ہے۔ وہ گذشتہ چار سال سے شام میں مقیم ہے۔ شام میں وہ تندور پر کام کرتا تھا جہاں داعش نے اس کا پاسپورٹ ضبط کرلیا جس کے بعد اس کا بیرون ملک سفر ممکن نہیں رہا۔

ایک سوال کے جواب میں محمد الجابر نے بتایا کہ سیکیورٹی حکام نے ان کے اہل خانہ سے کسی قسم کی تفتیش نہیں کی اور نہ ہی خود کش بمبار کی شناخت کے لیے ان کے گھر سے خون کے نمونے حاصل کئے۔

اس کا بھائی برطرف صدر محمد مرسی کے دور میں دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوا اور لبنان چلا گیا۔ ایک سال بعد وہ واپس گاؤں آیا اورایک ٹیکسی خرید کر چلانے لگا۔ کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ لبنان اور ترکی کے راستے شام گیا۔ وہ تین بچوں کا باپ ہے۔ بڑے بیٹے رجب کی عمر 10 سال، ایک بیٹی امینہ کی عمر 7 اور دوسری بیٹی براء کی عمر چار سال ہے۔ بچے اور ان کی والدہ ان کے ساتھ ہی گھر میں رہتے ہیں۔

محمد جابرنے بتایا کہ اشرف جابرکا خاندان سے کبھی کبھی رابطہ ہوتا ہے ۔ ہمیں یہ اطلاعات ملی تھیں کہ وہ لبنان کے بعد ترکی کے سفر پر گیا۔ وہ نماز کا پابند تھا۔ اس کے علاوہ سلفی جہادی تنظیموں کے مراکز میں بھی اس کا آنا جانا تھا۔ انہوں نے اشرف کی بیرون ملک سفر میں اس کی مدد کی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں محمد جابر نے کہا کہ اشرف نے کچھ عرصہ قبل شام سے اپنے اہل خانہ سے رابطہ کیا اورکہا کہ وہ ایک پنجرہ نما جگہ میں بند ہے۔ وہ وطن واپس لوٹنا چاہتا ہے مگراسے ڈر ہے کہ اگر واپس آیا تو اسے پولیس گرفتار کر لے گی۔

مشتبہ خود کش بمبار کے بھائی نے بتایا کی اشرف کے کویت کے سفر کے بارے میں اطلاعات درست نہیں۔ اس نے کویت کا سفر کیا اور نہ ہی اکاؤنٹنٹ کے طور پرکام کیا۔ وہ بیکری پر کام کرتا رہا ہے۔ اس نے دہشت گرد تنظیموں میں اپنی شمولیت پر ندامت کا بھی اظہار کیا تھا۔ اہل خانہ کو اب بھی یقین نہیں کہ اشرف نے المرقسیہ چرچ پر خود کش حملہ کیا۔

ایک سوال کے جواب میں محمد جابر نے بتایا کہ ان کے گاؤں سے دو اور افراد بھی داعش میں شمولیت کے لیے شام گئے ہیں۔ اس نے کہا کہ چرچ پرحملے سے اس کے بھائی کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ کہ شام جانے کے بعد مصر واپس لوٹا ہی نہیں۔ اسکندریہ دھماکے سے محض دو روز قبل اس نے شام سے گھر والوں سے رابطہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ کویت کے اخبار ‘القبس‘ نے منگل کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اتوار کو اسکندریہ میں ایک چرچ پر حملہ کرنے والا شخص اکتوبر 2016ء کو کویت پہنچا جہاں اس نے ایک تجارتی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کی ملازمت اختیار کی تھی۔

پولیس کو اس پر داعش سے تعلق کا شبہ ہوا جس پر اسے حراست میں لیا گیا اور تفتیش کی گئی تھی۔ جب اس پر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق ثابت ہوگیا تواسے ملک بدر کردیا گیا تھا۔