.

بلاشبہ شامی رجیم ہی تباہ کن کیمیائی حملے کا ذمے دار ہے: جیمز میٹس

شام میں میزائل حملوں کے باوجود امریکا کی فوجی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ امریکا کو اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت ہی گذشتہ ہفتے شمال مغربی قصبے خان شیخون پر تباہ کن کیمیائی حملے کی ذمے دار ہے۔

جیمز میٹس نے منگل کی شب واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں اسدی فوج کے ایک اڈے پر میزائل حملے کے بعد بھی ہماری فوجی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے اور ہماری بدستور ترجیح داعش کو شکست سے دوچار کرنا ہے۔

جیمز میٹس نے کہا:’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ شامی رجیم ہی اس حملے کے فیصلے اور خود حملے کا ذمے دار ہے۔اس حملے کے بعد امریکا کی قومی سلامتی کے عہدے داروں نے مختلف ’’ سفارتی اور فوجی آپشنز‘‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے تھے اور انھوں نے خود امریکا کے اتحادیوں سے اس موضوع پر بات کی تھی‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ قومی سلامتی کونسل نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی بین الاقوامی ممانعت پر غور کیا تھا جبکہ شامی رجیم نے اس بین الاقوامی قانون کی بار بار خلاف ورزی کی ہے اور اس نے شہریوں کا سفاکانہ انداز میں قتل عام کیا ہے‘‘۔

جیمز میٹس نے کہا:’’ ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ایک ٹھوس فوجی ردعمل ہی کے ذریعے شامی رجیم کو ان کیمیائی ہتھیاروں کے مستقبل میں استعمال سے روکا جا سکتا ہے‘‘۔پینٹاگان کے سربراہ نے صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ امریکا کی داعش کے انتہا پسندوں کو شکست سے دوچار کرنے پر ہی توجہ مرکوز رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ داعش ایک واضح خطرے کی نمائندہ ہے۔وہ یورپ کے لیے فوری خطرے کا موجب ہے اور امریکا کی سرزمین پر بھی خطرہ بن سکتی ہے‘‘۔

جیمز میٹس کی اس گفتگو سے چندے قبل ہی منگل کے روز امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن ماسکو پہنچے تھے جہاں وہ روسی حکام سے بشارالاسد کی حمایت جاری رکھنے کے حوالے سے گفتگو کرنے والے تھے۔

ایک امریکی عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ واشنگٹن اس امر کی تحقیقات کررہا ہے کہ آیا روس کا بھی خان شیخون پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں کوئی کردار تھا۔گذشتہ منگل کے روز سیرین گیس کے اس حملے میں ستاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس ننگی سفاکیت کے باوجود روس نے صدر بشارالاسد کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔