.

حوثیوں کی تشکیل کردہ متنازع افتاء کونسل مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثیوں کی جانب سے اپنے زیر تسلط علاقوں میں نئی افتاء کونسل اور مفتی کی تعیناتی کے فیصلے پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عوامی سطح پر اس فیصلے کو حوثیوں کے نظریاتی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اسے ملک میں غیرمسبوق مذہبی انتشار کو ہوا دینے کی ایک نئی سازش سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

باغیوں کی قائم کردہ انقلابی کونسل کی طرف سے حال ہی میں آئینی افتاء کونسل کو ختم کر کے اس کی جگہ نئی افتاء کونسل قائم اور نیا مفتی مقرر کیا گیا ہے۔ باغیوں کے جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ افتاء کونسل میں شامل تمام مذہبی رہ نما ’ہاشمی‘ سلسلہ نسب سے ہیں اور انہیں ’اہل بیت‘ کی اولاد بھی کہا گیا ہے۔

باغیوں نے قاضی محمد بن اسماعیل العمرانی کی جگہ شیعہ مسلک کے شمس الدین محمد شرف الدین کو نیا مفتی اعظم مقرر کیا ہے۔

حوثیوں کے دعوؤں کے مطابق افتاء کونسل میں پانچ نئے ارکان کو شامل کیا گیا ہے۔ نئے شامل ہونے والے ارکان اثنا عشری شیعہ مسلک کے مقرب ہاشمی، زیدی اور الغارردیہ سلسلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور مذہبی طور پر ایران میں قائم والایت فقیہ کے پیروکار ہیں۔

ان میں محمد علی مرعی صوفی کو ’آل بیت‘ کی اولاد قرار دیا گیا ہے۔ وہ ایران کی ولایت فقیہ کے ماننے والے ہیں اور ساتھ ہی انہیں وہ سابق مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کے مقربین میں شمار ہوتے ہیں۔ دیگر ارکارن میں ہاشمی سلسلے کے محمد عبداللہ عوض، زیدی فرقے کے یونس محمد المنصور اور ہاشمی صوفی فرقے سے تعلق رکھنے والے ابراہیم عقیل شامل ہیں۔

نئی یمنی افتاء کونسل کا چیئرمین بھی ایک ایران نواز اثنا عشری شیعہ ہے۔ اس کے ایران کے کئی سفر اور آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقاتیں بھی ثابت ہیں۔ نو منتخب مفتی اعظم ایران کے مذہبی تعلیمی مرکز قم سے مذہبی تعلیم حاصل کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق نئی قائم کردہ یمنی افتاء کونسل ولایت فقیہ کی غیرمشروط مطیع و فرمان اور اہل تشیع کے آئمہ کی تابعداری کی قائل ہے۔

یمنی وزیراوقاف کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں یمن میں حوثی باغیوں کی قائم کردہ افتاء کونسل کو مسترد کردیا گیا ہے۔ یمنی وزیر اوقاف احمد عطیہ کا کہنا ہے کہ نئی افتاء کونسل اور من پسند مذہبی لیڈروں کی کونسل میں شمولیت مخصوص فرقے کی تعلیمات کو ترویج دینے اور ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔