.

روسی ویٹو مجرم اسد کی حوصلہ افزائی کرے گا: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے مندوب میتھیو ریکرافٹ نے بشار الاسد فورسز کی جانب سے اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کی تحقیقات سے متعلق عالمی ادارے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بشار الاسد کا ساتھ دیکر روس اپنی ساکھ کو گرا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی کونسل میں روسی ویٹو کا استعمال دمشق کی مجرم حکومت کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرانس کے نمائندے نے کہا کہ شامی حکومت کو سزا دینے کا وقت گزر چکا ہے۔ اب بشار الاسد حکومت کو انسانی قوانین کے احترام پر مجبور کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن عمل کو آگے بڑھانے کی پوزیشن میں ہیں۔

شام میں کیمیائی ہتھیار اور روسی ویٹو

درایں اثنا بدھ کے روز برطانیہ، امریکا اور فرانس کی جانب سے سیکیورٹی کونسل میں شمال مغربی شامی شہر ادلب پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق قرارداد کو روس نے 'ناقابل قبول' قرار دے دیا۔

روس کے نائب وزیر خارجہ گینیڈی گیٹلیوف نے کہا کہ متذکرہ تینوں ملکوں کی جانب شام میں کیمیائی حملے سے متعلق مجوزہ قرارداد موجودہ متن کے ساتھ ہمارے لئے ناقابل قبول ہے، فطری بات ہے کہ ہم اس کی منظوری کے حق میں نہیں۔ ہم اس قرارداد کو ویٹو کریں گے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلے نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب جب بشار الاسد فضا سے بیرل بم برسائے یا نہتے عوام پر زندگی تنگ کی تو روس نے اس کی حمایت کر کے خود کو بین الاقوامی برادری سے الگ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام میں اپنا نفوذ بڑھانے کی خاطر ایران وہاں جنگ کے شعلوں کو ہوا دے رہا ہے۔ امریکا شامی بحران ختم کرنے کے لئے سیاسی راستے کی حمایت کرتا ہے۔

ڈی میستورا اپنے عہدے پر برقرار

شام کے لئے عالمی ادارے کے نمائندے سٹیفن ڈی میستورا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے منصب پر برقرار ہیں اور مئی میں بحران کے حل کی خاطر شروع ہونے والے مذاکراتی مرحلے کے لئے تیار ہیں۔

بدھ کے روز سیکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ڈی میستورا نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ماسکو اور واشنگٹن مذاکرات کے ایک ہی نکتے پر مل کر کام کریں۔