.

سیگریٹ نوشی8 سیکنڈ میں ایک شخص کی موت کا سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیگریٹ نوشی کے انسانی صحت کے لیے تباہ کن اثرات بارے ایک نئی رپورٹ میں چونکا دینے والے اعداد وشمار جاری کیے گئے ہیں۔ ماہرین کی تیار کردہ ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے ہر آٹھ سکینڈ میں ایک شخص کی موت کا سبب بن رہی ہے۔

اخبار ’گارجین‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں تنبیہہ کی گئی ہے کہ دہائیوں سے جاری تمباکو نوشی پر کنٹرول کی پالیسیز کے باوجود آبادی میں تمباکو نوشوں کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ شرح اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ تمباکو سازی کی کمپنیاں ترقی پذیر ممالک میں اپنا کاروبار بڑھا رہی ہیں۔

دی گلوبل برڈن آف ڈیزیزز نامی اس رپورٹ میں 195 ممالک اور ریاستوں میں 1990 سے 2015 کے درمیان لوگوں کی تمباکو نوشی کی عادات کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں پتا چلا کہ سنہ 2015 کے دوران ایک ارب کے قریب لوگ روزانہ تمباکو نوشی کرتے تھے۔ ہر چار میں سے ایک مرد اور ہر 20 میں سے ایک عورت تمباکو نوش ہے۔

یہ تعداد سنہ 1990 کے مقابلے میں کم ہے جب ہر تیسرا شخص جبکہ ہر بارہویں عورت تمباکو نوشی کرتی تھی۔

تاہم مجموعی آبادی میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے جو سنہ 1990 میں 87 کروڑ تھی.

تمباکو نوشی سے جڑی اموات سنہ 2015 میں 64 لاکھ رہیں جو 4.7 فیصد زیادہ ہیں۔

مطالعے کے مطابق بعض ممالک لوگوں سے تمباکو نوشی چھڑوانے میں کامیاب بھی ہوئے جس کی وجہ تمباکو کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس، پیکٹس پر تنبیہہ اور آگہی پروگرامز ہیں۔

تاہم رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن میں سنہ 1990 سے 2015 کے درمیان کوئئ تبدیلی نہیں آئی۔