.

یمن : لڑائی میں شدت ،3 سرکاری فوجی ،15 حوثی باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے اور گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران میں جھڑپوں میں تین فوجی اور پندرہ باغی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمن کے فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری فورسز نے ساحلی شہر المخا کے مشرق میں لڑائی کے بعد حوثی باغیوں کے زیر قبضہ متعدد ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔یمنی فوج کو سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے خصوصی دستوں کے علاوہ فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

حوثیوں کے زیر قبضہ ساحلی شہر الحدیدہ سے تعلق رکھنے والے ایک طبی ذریعے نے بتایا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران میں جھڑپوں اور اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں پندرہ باغی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ لڑائی میں تین فوجی کام آئے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے فروری میں المخا کی بندر گاہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور وہاں سے حوثی باغیوں کو مار بھگایا تھا۔اب یمنی فورسز بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ واقع ساحلی پٹی سے حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ان جنگی کارروائیوں کا مقصد المخا سے مشرق میں واقع تعز شہر کی جانب جانے والے روٹ کو حوثی باغیوں سے پاک کرنا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس روٹ پر خالد بن الولید فوجی اڈا بھی واقع ہے جہاں حوثی باغی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوؤں کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہ ایک مشکل علاقہ ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ منگل کے روز اسی علاقے میں پانچ سوڈانی فوجی باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے کام آئے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرکاری فورسز شمال کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں اور فی الوقت حدیدہ کی بندرگاہ کی جانب پیش قدمی ان کی ترجیح نہیں ہے بلکہ پہلے المخا کے مشرق میں واقع علاقے اور اس کے بعد شمال کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔