.

"ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف" والی ٹون نہیں چلے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹیلرسن سے ملاقات میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ماسکو، واشنگٹن کے ساتھ تعاون چاہتا ہے مگر اس تعاون کی بنیاد 'ہمارے ساتھ، یا ہمارے خلاف' کا امریکی اصول نہیں بن سکتا۔ روس اور امریکا کے نقطہ نظر میں واضح فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا، شام میں دوبارہ حملوں سے گریز کرے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لاوروف نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا افق واضح ہونا چاہئے۔ ہم بین الاقوامی قانون کی روشنی میں برابری کی سطح پر تعمیری مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ٹیلرسن نے ماسکو کے ساتھ مذاکرات اور رابطے جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مذاکراتی عمل کے حوالے سے ہمارا نقطہ نظر مختلف ہو سکتا ہے، تاہم اس اختلاف کے باوجود مذاکرات کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا ہمیں روس اور امریکا کے درمیان اختلافات کم سے کم کرنے چاہیں اور ان رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہئے جو اس ضمن میں موجود ہیں۔

شام میں نو فلائی زون

روسی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز بتایا کہ سرگئی لاوروف اور ریکس ٹیلرسن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شام کے اندر نو فلائی زون بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

روسی خبر رساں اداروں نے نائب وزیر خارجہ سرگئی رائبکوف کے حوالے سے بتایا کہ روس شام سے متعلق امریکی موقف کو پراسرار سمجھتا ہے جبکہ امریکا چاہتا ہے کہ ہم شام کے بارے میں سخت رویہ اختیار کریں۔