.

امریکی جج نے مہلک ٹیکوں کے لیے تین میں سے ایک دوا پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست آرکنساس میں ایک جج نے مہلک ٹیکوں میں استعمال ہونے والے تین میں سے ایک دوا پر عارضی طور پر پابندی عاید کردی ہے۔ان تینوں دواؤں کو سزائے موت کے مجرموں کو موت سے ہم کنار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ریاست کے علاقے لٹل راک میں چھٹے جوڈیشیل سرکٹ کے جج وینڈیل گریفن نے یہ حکم ایک کمپنی میکسن میڈیکل سرجیکل کی جانب سے دائرکردہ درخواست پر جاری کیا ہے۔

کمپنی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ آرکنساس کا جیل نظام ایک مہلک دوائی ورکیورینیم برومائیڈ کی سپلائی کو واپس کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ریاست کے محکمہ جیل خانہ جات کو جب یہ پتا چلا تھا کہ ریاست اس دوا کو سزائے موت کے قیدیوں کو ٹیکے لگانے میں استعمال کرنا چاہتی ہے تو اس نے اس کو کمپنی کو واپس کرنے سے انکار کردیا تھا جبکہ اس کی فروخت کے وقت ریاست کی کمپنی سے یہ مفاہمت طے پائی تھی کہ اس دوا کو سزائے موت کے قیدیوں کو مہلک انجیکشن لگانے میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔