.

طنطاچرچ کا خود کش بمبار مساجد میں نماز کیوں ادا نہ کرتا تھا؟

ممدوح امین بغدادی أئمہ مساجد کو ’کافر‘ سمجھتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزارت داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ اتوار کو طنطا شہر میں قائم قبطی عیسائیوں کے مار جرجس گرجا گھر میں خود کش بم حملہ کرنے والے ملزم کی شناخت کرلی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق طنطا چرچ کے خود کش بمبار کی شناخت ممدوح امین محمد بغدادی کے نام سے کی گئی ہے جس کا تعلق قنا گورنری سے ہے۔ ملزم النقب وادی جدید میں پولیس پر گھات لگا کرحملہ کرنے والے اس سیل کا بھی حصہ ہے جس کی قیادت مفرور ملزم عمرو عباس کررہا ہے۔ اس حملے میں 8 مصری پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

طنطا گرجا گھر میں خود کش حملہ کرنے والے مبینہ ملزم کے بارے میں العربیہ کو مزید معلومات ملی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ممدوح امین بغدادی محلے کی مسجد سمیت کسی بھی مسجد میں با جماعت نماز ادا نہیں کرتا تھا بلکہ گھر میں نماز پڑھتا۔ اس کی وجہ یہ تھی وہ امام مسجد سمیت تمام مساجد کےآئمہ کی تکفیر کرتا۔

اس کا کہنا تھا کہ مساجد کے آئمہ جامعہ الازھر کے فضلاء اور حکومت کے مقرر کردہ لوگ ہیں۔ وہ حکومت سے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ حکومت جس طرح چاہتی ہے، وہ اسی طرح کرتے ہیں۔

قاہرہ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد سے پتا چلا ہے کہ طنطا شہر کے قبطی چرچ میں خود کش حملہ ممدوح امین محمد بغدادی نامی شخص نے کیا۔ اس کی تاریخ پیدائیش 25 جون 1977ء بتائی گئی ہے۔ وہ الظافریہ اور نجع الحجیری کےدرمیان مقیم تھا۔

تکفیری نظریات اختیار کرنے کے بعد ملزم تین ماہ تک جزیرہ سیناء میں چھپا رہا۔ وہاں سے عسکری تربیت، دھماکہ خیز مواد تیار کرنے، پرتشدد کارروائیوں اور ٹارگٹ کلنگ کی تربیت کے لیے صحرائے اسیوط آیا۔ وہ کئی ماہ تک اپنے گھر والوں سے بھی چھپا رہا۔ کئی ہفتوں کے بعد اس نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ مصر میں کسی کمپنی میں ملازمت کی تلاش میں ہے۔