.

یمنی فوج کا باغیوں کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر حملہ

خالد بن الولید کیمپ تعز میں حوثیوں کا سب سے مضبوط اور اہم اڈا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ یمن کی قومی فوج نے تعز شہر اور المخاء کے مشرقی علاقے میں باغی حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ہمنوا کی سب سے بڑے فوجی اڈے خالد بن الولید کیمپ پر جمعہ کی شب مغربی سمت سے حملہ کیا۔

ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ اس کارروائی سے خالد بن الولید کیمپ کی سپلائی لائن تقریبا تباہ ہو گئی ہے۔ اس کیمپ پر حملے اور مکمل قبضے کی تیاری کرتے ہوئے یمنی اور اتحادی فوج نے تین اطراف سے اسے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

اتحادی اور یمنی فوج نے کیمپ کے سامنے تزویراتی اہمیت کی پہاڑیوں پر قبضہ کر رکھا ہے جبکہ یمنی فوج مشرق، مغرب اور جنوبی اطراف سے کیمپ کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔

یمنی فوج میں 'العربیہ' کے خصوصی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کیمپ کی سپلائی لائن منقطع ہونے سے حوثیوں کی فائرنگ صلاحیت کمزور ہو گئی ہے۔ یمن کی فوج اب کیمپ کے اندر باہر سے دیکھی جانے والی نقل وحرکت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمپ میں داخلے کی راہ میں اس وقت داخلی راستوں پر باغیوں کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں ہیں۔ سرکاری فوج نے ان بارودی سرنگوں کو آہستہ آہستہ ناکارہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔

خالد بن الولید کیمپ تعز شہر میں باغیوں کا سب سے مضبوط فوجی ٹھکانا سمجھا جاتا ہے۔ اس پر قبضہ کے بعد باغی ملیشیا شہر میں بری طرح پٹ جائے گی۔ نیز صورتحال پر نظر رکھنے والے مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیمپ پر کنڑول سے الحدیدہ شہرکو حوثیوں کے چنگل سے آزاد کرانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے المخا جنکشن اور کیمپ کے مشرقی دروازے پر متعدد فضائی حملے کئے ہیں جس کے نتیجے میں باغیوں کو لیجانے والی متعدد گاڑیاں اور فوجی ساز و سامان تباہ ہو گیا۔