.

بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کے لئے سمندر میں کلین اپ آپریشن

خطرناک بارودی سرنگیں ایران نے یمن کے حوثی باغیوں کو فراہم کیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سرکاری فوج نے حوثی باغیوں کی جانب سے مختلف سمندری راستوں میں بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کے لئے "سی ایرو" یعنی بحری تیر نامی آپریشن شروع کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق یہ بارودی سرنگیں ایران نے باغیوں کو دی تھیں، جس کا مقصد پرانی طرز کی بحری آبدوزوں کو نشانہ بنانا تھا، تاہم گہرے سمندر میں اپنا رزق تلاش کرنے والے مچھیرے اور میدی ساحل کے قریبی جزیروں کے رہائشی بھی ان بارودی سرنگوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ نیز یہ ہتھیار آبنائے باب المندب کے راستے ہونے والی بین الاقوامی سمندری نقل وحمل کو بھی خطرات دے دوچار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

"سی ایرو" کلین اپ آپریشن کا آغاز حجہ گورنری کی شمال مغربی سمت میں میدی کے سرحدی محاذ سے کیا گیا ہے اور اس کارروائی میں میدی کے جنوب مغربی ساحل اور ان سے متصل جزیروں میں بارودی سرنگیں صاف کی جا رہی ہیں۔

ان ساحلی علاقوں اور جزیروں میں جاری آپریشن کا ہدف علاقے کو باغیوں کے چھپے ہوئے ساتھیوں اور حوثی ملیشیا کی طرف سے نصب کی جانے والی بارودی سرنگوں کا صفایا ہے۔

آپریشن کمان کے مطابق جنوب میدی کی عبس ڈحوائریکٹوریٹ کے بالمقابل ساحلی علاقے میں مسلح ملیشیا کی نقل وحرکت مانیٹر کی گئی تھی۔ اس امر کی اطلاع عرب اتحادی طیاروں کو فراہم کی گئی جس نے ان ٹھکانوں پر بمباری کی۔

آپریشن کمانڈر نے بتایا کہ کارروائی کے دوران انہیں بڑی تعداد میں سمندر میں بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں ملی ہیں، جس کے بعد علاقے کا محاصرہ کر کے بارودی سرنگوں کے ذخیرہ کی نشاندہی کی گئی۔ ماہی گیروں کو اس کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لئے خطرناک زون کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ بارودی سرنگیں ایک ایرانی بحری جہاز سے ملی تھیں۔

پکڑی جانے والی بارودی سرنگیں ایران کی پرانی آبدوزیں استعمال کرتی ہیں جن کا مقصد باغی ملیشیا کی مدد کرنا ہے۔