.

ترک اپوزیشن جماعت کا ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ’پیپلز ری پبلیکن پارٹی‘ کے سربراہ اردال اکسونجور نے گذشتہ روز صدارتی طرز حکومت کے حق میں ہونے والے ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریفرنڈم کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر کی طرف سے ’ٹویٹر‘ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اتوار کے روز ڈالے گئے ووٹوں کی دبارہ گنتی ضروری ہے۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا 60 فی صد ووٹ صدارتی نظام کے حق میں ڈالے گئے ہیں یا نہیں۔

اپوزیشن جماعت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ دو تہائی پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج چیلنج کریں گے کیونکہ بہت سے پولنگ مراکز پر دھاندلی کے ذریعے ووٹ ڈلوائے گئے ہیں۔

ادھر ترکی کے سپریم الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مشکوک ووٹوں کی جانچ پڑتال کرے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولنگ کے عملے کو یہ شکایات ملی ہیں کہ لوگوں کی بڑی تعداد نے شناختی کارڈ دکھانے کے بغیر ووٹ ڈالے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اناطولیہ‘ نے بتایا ہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں 51.3 فی صد ووٹ صدارتی نظام کی حمایت میں ڈالے گئے ہیں جب کہ مخالفت میں 49.7 فی صد ووٹ آئے ہیں۔ جب کہ 97 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل کی جا چکی ہے۔

دستور میں ترمیم کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں سب سے زیادہ مخالفت ملک کے تین بڑے شہروں استنبول، انقرہ اور ازمیر میں کی گئی ہے۔