.

حوثی باغیوں نے 40 مردو خواتین محققین یرغمال بنا لیے

علی صالح کا مقرب پولیس چیف سات ساتھیوں سمیت ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایران نواز حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء کے جنوبی شہر ذمار سے سماجی بہبود فنڈ کے لیے کام کرنے والے 40 محققین کو یرغمال بنا لیا ہے۔ یرغمال بنائے گئے محققین کی نصف تعداد خواتین پر مشتمل بتائی جاتی ہے۔

العربیہ کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے صنعاء کے قریب الحداء ڈاریکٹوریٹ میں 20 کاروں کو روکا جن پر سماجی بہبود فنڈ کے محققین سوار تھے۔ وہ علاقے میں ترقیاتی پروگراموں اور سماجی سروسز کی جان کاری کے ایک مطالعاتی دورے پر آئے تھے۔ حوثیوں نے ان سب کو یرغمال بنانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے یرغمال بنائے گئے کارکنان پر دوسرے ملکوں کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا ہے اور اس الزام کے بعد انہیں الحدا ڈاریکٹوریٹ میں زراجہ کےعلاقے کی ایک جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں یمن کے عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ شمال مشرقی صعدہ میں البقع کے مقام پر مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کا ایک وفادار پولیس چیف ہلاک ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اتحادی فوج کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں صعدہ میں جرنل امین الحمیری اپنے سات ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے۔