.

خامنہ ای کی صحت بارے ایران کا ٹرمپ کو خفیہ مکتوب!

اقتصادی پابندیاں موخر کرنے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ تہران کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خفیہ مکتوب ارسال کیا گیا ہے جس میں اُنہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی خرابی صحت سے آگاہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اس مکتوب میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید نہ کرے تاکہ نئے سپریم لیڈر پر اعتدال پسندانہ فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

قبل ازیں ایران کے برطرف صدرابو الحسن بنی صدر نے بھی ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ایرانی رجیم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خفیہ مکتوب بھیجا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ خامنہ ای کے بسترمرگ پرہونے کے باعث اقتصادی پابندیاں عاید نہ کریں۔ تاکہ ایران میں فیصلہ سازحلقوں پر دباؤ پڑے اور ملک میں سپریم لیڈر کا عہدہ کسی اعتدال پسند شخص کو دینے کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس خفیہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای کی خرابی صحت سے ان کی وفات کا قوی امکان موجود ہے۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ عراق کے علی السیستانی کی طرح ایران میں کسی اعتدال پسند شخص کو اس سپریم لیڈر کے عہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشی پابندیوں کا معاملہ موخر کیا جائے۔

بنی صدرکا کہنا ہےکہ میرے خیال میں خفیہ مکتوب والی بات درست ہے کیونکہ حالیہ دنوں کے دوران امریکی حکومت اور کانگریس نے ایران کے صدارتی انتخابات کے بعد مزید پابندیاں موخر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خمینی کے آخری ایام میں بھی ایسا ہی ایک مکتوب ایران کے اندر سے اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن کو لکھا گیا تھا۔

ایک دوسرے ذریعے کا کہنا ہے کہ ایران کی طاقت ور فوج پاسداران انقلاب نے سخت گیر مذہبی رہ نما ابراہیم رئیسی کو ملک کا نیا صدر بنانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

سابق صدر بنی صدر کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ایران میں ابراہیم الرئیسی جیسے شخص کو صدرمنتخب ہونا چاہیے۔