.

شمالی کوریا کے معاملے میں چین امریکا کے ساتھ ہے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے تنازع پر چین نے امریکا کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ صدر ٹرمپ نے چین پر اپنا کرنسی کے ذریعے کھیلنے کا اپنا سابقہ بیان بھی والے لے لیا اور کہا کہ بیجنگ کرنسی کے ذریعے امریکی معیشت کو نقصان نہیں پہنچا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا کہ شمالی کوریا کے بحران کے حل کے لیے چین کا امریکا کو بھرپور تعاون حاصل ہے۔ نیز یہ کہ چین پر کرنسی کے ذریعے کھیلنے کا الزام درست نہیں تھا۔ بیجنگ ہمارے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہے۔

چین جو کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اپنے پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ میں آگیا ہے۔

’شمالی کوریا خطرناک مقام پر آگیا ہے‘

امریکا کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناؤ کے باعث امریکا اور چین اس حوالے سے ’کئی تجاویز‘ پر غور کر رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ’یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔‘

یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب گذشتہ روز شمالی کوریا کی جانب سے بڑی ملٹری پریڈ کی گئی اور ایک میزائل کا ناکام تجربہ بھی کیا گیا۔

اتوار کو آمنے آنے والا بیان اس بات کی پہلی تصدیق تھی کہ دونوں ممالک شمالی کوریا کہ مسئلے پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

جنرل مک ماسٹرجو کہ افغان دارالحکومت کابل میں تھے نے کہا ہے کہ ’تازہ کشیدگی اور میزائل تجربات اشتعال انگیز، غیر مستحکم کرنے اور دھمکی آمیز رویہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اور پارٹنر اس حکومت سے خوف زدہ نہیں ہوں گے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں امریکی عسکری مشیر کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے دوطرفہ دوستانہ تعلقات کی مضبوط بنیادیں رکھ دی ہیں۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز ہی جنوبی کوریا اور امریکا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے مشرقی ساحل پر میزائل لانچ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔

شمالی کوریا کو ناکامی کا سامنا ایسے وقت میں کرنا پڑا جب ایک روز قبل ہی اس نے امریکہ کو متنبہ کیا تھا کہ 'اگر امریکہ ہمارے خلاف لاپرواہی پر مبنی اشتعال انگیزی کرتا ہے، تو ہماری انقلابی قوت فوری طور پر اس کا سنگین جواب دے گی۔ ہم بھرپور جنگ کا اور جوہری جنگ کا اپنے انداز میں جوہری حملے سے جواب دیں گے'۔