.

آستانہ کے بعد جنیوا میں شامی مذاکرات کی روسی منصوبہ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگی لافروف نے کہا ہے کہ ماسکو نے شام میں بحران کے حل کے لیے آئندہ مذاکرات قزاقستان کے دارالحکومت آستانا کے بجائے جنیوا میں کرنے کی تیاری شروع کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ ہمارے سابق اتحادیوں کی مہم جوئی کے نتیجے میں داعش، النصرہ اور شام میں افراتفری کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں لافروف نے کہا کہ ان کا ملک خان شیخون میں مبینہ کیمیائی حملے کی شفاف تحقیقات کا پرزور حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خان شیخون میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کے بارے میں برطانوی تحقیقاتی مشن کیا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو شام میں جاری بحران کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے اور تنازع کے حل کو سبوتاژ کرنے کی کسی جو اجازت نہیں دی جائے گی۔

قبل ازیں روس کے نائب وزیرخارجہ میخائل بوگدانوف نےکہا تھا کہ روس، امریکا اور اقوام متحدہ کے سفارت کاروں بے آئندہ ہفتے جنیوا میں شام کے بحران پر اہم اجلاس بلانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو کو امریکا کی طرف سے جنیوا میں شامی مذاکرات کی تصدیق کا انتظار ہے۔