.

حوثیوں کے ’’ایرانی ساختہ‘‘راکٹ روکے جانے چاہییں: جیمز میٹس

امریکا یمن میں جاری تنازعے کا مذاکرات کے ذریعے جلد سیاسی حل چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ ان کا ملک یمن میں جاری تنازعے کا جلد سے جلد خاتمہ چاہتا ہے اور وہ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات کے انعقاد کی کوششیں کررہا ہے۔

وہ سعودی عرب کے دورے پر آتے ہوئے طیارے میں اپنے ہم سفر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔وہ خطے کے ملکوں کے دورے پر ہیں اور بدھ کو وہ مصر جائیں گے۔اس کے بعد وہ قطر ،اسرائیل اور جیبوتی کا بھی دورہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا بڑا مقصد اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات کا انعقاد ہے تاکہ یمنی تنازعے کا جلد سے جلد کوئی سیاسی حل تلاش کیا جاسکے۔

جیمز میٹس نے مزید کہا کہ ’’ہم اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکرات کی میز تک پہنچنے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعاون کریں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یمن کی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے چلائے گئے راکٹ ایرانی ساختہ ہوتے ہیں۔ان راکٹ حملوں کو روکا جانا چاہیے۔

سعودی مسلح افواج کے کمانڈر عبدالرحمان البنیان نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا دارالحکومت الریاض میں آمد پر استقبال کیا ہے۔