.

فیس بُک پر ویڈیو میں بوڑھے کو قتل کرنے والے امریکی کی خودکشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست اوہائیو میں ایک بوڑھے شخص کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر پوسٹ کرنے والے مشتبہ قاتل نے خودکشی کر لی ہے۔

اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں 37 سالہ اسٹیو اسٹیفنز نے 74 سالہ رابرٹ گاڈون کو اتوار کے روز سفاکانہ انداز میں گولی ماری تھی۔وہ اس واقعے کو انٹرنیٹ پر لائیو دکھا رہا تھا اور پھر سفید رنگ کی فورڈ گاڑی میں سوار ہوکر جائے واردات سے فرار ہوگیا تھا۔

کلیو لینڈ پولیس کے سربراہ کاون ولیمز نے اتوار کی شب ایک نیوزکانفرنس میں اسٹیفنز کو خبردار کیا تھا کہ ’’وہ خود کو حکام کے حوالے کردے‘‘۔انھوں نے کہا کہ ہر کوئی اسٹیو کی تلاش میں ہے۔ہم اس معاملے کو پُرامن طریقے سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔مقامی حکام ایف بی آئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کر کام کررہے ہیں‘‘۔

وہ اوہائیو میں قتل کی اس واردات کے بعد فرار ہوکر ریاست پنسلوینیا چلا گیا تھا۔پنسلوینیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ افسروں نے اسٹیفنز کو منگل کی صبح ایری کاؤنٹی میں دیکھا تھا۔پولیس نے اس کا پیچھا کیا لیکن اس نے گرفتاری کے بجائے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔

کلیو لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیفنز کا پہلے سے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور اس نے اس سے پہلے کسی اور شخص کو قتل بھی نہیں کیا تھا۔

اس ویڈیو کے فیس بُک پر منظرعام پر آنے کے بعد سے امریکا میں ایک نئی بحث بھی چھڑ گئی ہے اور وہ کہ یہ سماجی رابطے کی سب سے بڑی سائٹ اپ لوڈ کیے جانے والے تشدد آمیز مواد کی کس طرح نگرانی کرسکتی ہے اور اس کو کیسے روک سکتی ہے۔

فیس بُک نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ تشدد پر مبنی فوٹیج اور دوسرے قابل اعتراض مواد کی نگرانی کے لیے موجودہ طریق کار پر نظرثانی کرے گی۔ بوڑھے شخص پر فائرنگ کی ویڈیو دو گھنٹے تک فیس بُک پر دکھائی دیتی رہی تھی۔تب کمپنی کو اس کی اطلاع ہوئی تھی۔

اسٹیفنز کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مقتول ریٹائرڈ فاؤنڈری ورکر گاڈون کو پہلے سے نہیں جانتا تھا۔انھوں نے اتوار کو ایسٹر کی صبح اپنے بیٹے اور داماد کے ساتھ گزاری تھی ۔اس کے بعد قاتل نے انھیں جا لیا تھا اور گولی مار کران کی زندگی کا خاتمہ کردیا تھا۔

اسٹیفنز کی موت سے قبل گاڈون کے رشتے داروں نے کہا تھا کہ انھوں نے قاتل کو معاف کردیا ہے۔ان کے بیٹے روبی ملر نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’میں اس کو معاف کرتا ہوں کیونکہ ہم سب گناہ گار ہیں‘‘۔