.

قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کا کوئی پلان نہیں:ترکی

ملک میں ہنگامی حالت میں توسیع کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے نائب وزیراعظم محمد شیمشک نے کہا ہے کہ صدر طیب ایردوآن نے واضح کیا ہے کہ سنہ 2019ء سے قبل پارلیمنٹ تحلیل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کا کوئی پلان زیرغور نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دستور میں ترامیم اور صدر کو غیرمعمولی اختیارات کے حوالے کرائے گئے ریفرنڈم کے بعد ایک سوال کے جواب ترک نائب وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان تعلقات باہمی مفادات کے اصول کے تحت قائم رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انقرہ اور یورپ کےدرمیان حالیہ تناؤ اور شور شرابہ یورپ میں انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گا۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ برس جولائی میں ملک میں فوج کے گروپ کی طرف سے کی گئی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد لگائی گئی ہنگامی حالت میں توسیع کردی گئی ہے۔ ملک میں ہنگامی حالت میں توسیع ایسے وقت میں کی ہے جب ترکی میں اتوار کے روز ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں ترکی میں صدارتی نظام کے حق میں معمولی اکثریت کے ساتھ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ دستوری اصلاحات اور صدر کے اختیارات پر کئے گئے ریفرنڈم میں صدر ایردوآن کو غیرمعمول اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔

ملک میں ہنگامی حالت میں توسیع کا فیصلہ سوموار کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا اور اس کا اطلاق گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق 16:30 پر ہوا ہے۔ قبل ازیں ایمرجنسی کی مدت میں توسیع کے بارے میں نائب وزیراعظم نورالدین جانکلی کے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہنگامی حالت میں توسیع کا معاملہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کےایجنڈے میں شامل ہے۔

درایں اثناء ترک وزارت انصاف نے سوموار کے روز سے ریاستی دستور کے 7 آرٹیکلز کی 144 دفعات میں ترامیم پرکام شروع کردیا ہے۔ نئی ترامیم اتوار کے روز کیے گئے ریفرنڈم کے مطابق کی جائیں گی۔

اناطولو خبر رساں ادارے کے مطابق انتخابات کے قانون، بنیادی انتخابی قانون، ووٹروں کی رجسٹریشن، سیاسی جماعتوں سے متعلق قوانین، سپریم جوڈیشل کونسل، پراسیکیوٹرز، عدالتوں میں اپیل، فوجی عدالتوں اور صدارتی انتخابات سے متعلق قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔