.

ڈونلڈ ٹرمپ خطرناک امریکی صدرنہیں:احمدی نژاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے خطرناک صدر نہیں ہیں۔ اگر ان کی جگہ ہیلری کلنٹن صدر بن جاتیں تو وہ باراک اوباما اور جارج بش کے نقش قدم پر چلتیں۔

سابق ایرانی صدر نے ان خیالات کا اظہار ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کودیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ شام پرحملہ ہیلری کلنٹن نے کرایا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں محمود احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ٹرمپ زیادہ خطرناک نہیں ہیں۔ کیونکہ کوئی خطرناک شخص کبھی بھی 70 ارب ڈالر کی دولت جمع نہیں کرتا۔

خیال رہے کہ احمدی نژاد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سوئس سفارت خانے کے توسط سے اس وقت ایک مکتوب بھیجنے کی کوشش کی تھی جب ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ مگر سوئس سفارت خانے کی طرف سے یہ کہہ کر ان کا مکتوب ٹرمپ تک پہنچانے سے انکار کردیا تھا کہ ’وہ کوئی ڈاکیا نہیں‘۔

احمدی نژاد کی صدارتی دوڑ میں شمولیت سرپرائز

’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں سابق ایرانی صدر نے کئی دیگر سوالوں کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں حصہ لینے کا اعلان اس بات کا اظہار ہے کہ ایران میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے سپریم لیڈر کے مشورے پرعمل درآمدکیوں نہیں کیا تو احمدی نژاد نے کہا کہ سپریم لیڈر نے اپنی رائے تبدیل کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ میرا نام انتخابی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے مگر سابق حکومتی مشیر اور معاون خصوصی حمید بقائی کی طرف سے ان کی کھل کرحمایت کی گئی ہے۔

مبصرین کاکہنا ہے کہ سپریم لیڈر کے مشورے کو نظرانداز کرکے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے احمدی نژاد کا اعلان ایک بڑا’سرپرائز‘ ہوسکتا ہے۔ احمدی نژاد کی باغیانہ انداز میں صدارتی دوڑ میں آمد سپریم لیڈر کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے بھی اسی طرح اشارہ کرتے ہوئے احمدی نژاد کے انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کو ’سپریم لیڈر پر تیر پھینکنے‘ کے مترادف قرار دیا۔

نامہ نگار نے احمدی نژاد سے پوچھا کہ آیا صدارتی امیدوار بننے کے بعد آپ کی رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات ہوئی ہے تو احمدی نژاد نے کہا کہ ’اگلا سوال پوچھیں‘۔