.

تیونس : ملازمتوں کے لیے ہزاروں افراد کے حکومت مخالف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے شمال مغربی شہر الکاف میں ہزاروں افراد نے بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

دارالحکومت تیونس سے 180 کلومیٹر مغرب میں واقع شہر الکاف میں ملک کی طاقتور ٹریڈ یونین یو جی ٹی ٹی کی مقامی شاخ نے عام ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کی اپیل کی تھی۔ مظاہرین جمعرات کو یونین کے دفتر کے سامنے جمع ہوئے اور پھر انھوں نے مرکزی شاہراہوں کی جانب مارچ کیا ہے۔

مظاہرین ’’ کام ،آزادی ،وقار‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ الکاف کو بھی ترقی کا حق حاصل ہے۔انھوں نے علاقے کی ترقی کے لیے وعدے ایفاء نہ کرنے پر حکومت کی مذمت کی۔عام ہڑتال کے موقع پر شہر میں تمام سرکاری دفاتر ،نجی کمپنیوں کے دفاتر ،دکانیں اور کیفے بند تھے اور صرف اسپتال ،دواخانے اور بیکریاں کھلی تھیں۔

یو جی ٹی ٹی کے علاقائی دفتر کے نائب سربراہ کامل صحیح کا کہنا تھا کہ انقلاب کے بعد سے پے درپے حکومتوں نے ان کے علاقے کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا،اس کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے،اس کو دیوار سے لگا دیا ہے اور موجودہ وزیراعظم یوسف شاہد بھی یہی کچھ کررہے ہیں۔

تیونس کے جنوبی صوبے تطاوین اور وسطی علاقے قیروان سمیت دوسرے علاقوں میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران میں اسی طرح کے مظاہرے کیے گئے ہیں اور تیونسی شہریوں نے حکومت سے روزگار مہیا کرنے کے مطالبے کیے ہیں۔

الکاف میں یہ مظاہرے اس افواہ کے بعد کیے گئے ہیں کہ وہاں سے ایک بڑی فیکٹری کو زیادہ ترقی یافتہ صنعتی ساحلی شہر الحمامات میں منتقل کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ تیونس میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خلاف چھے سال قبل عوامی بغاوت کے بعد سے لوگوں کے معاشی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور جن مسائل کی بنا پر زین العابدین بن علی کی حکومت کا دھڑن تختہ کیا گیا تھا،وہ جوں کے توں ہیں۔ملک میں غربت اور بے روزگاری کی شرح اور بدعنوانیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

گذشتہ سال غربت زدہ قنسرین کے علاقے میں بے روزگاری کے خلاف مظاہرے کے دوران میں ایک نوجوان کی ہلاکت پر ہنگامے ہوئے تھے۔اکتوبر میں وسطی علاقے قفصہ میں مظاہرین نے فاسفیٹ کی دو بڑی کانوں کو ملازمتوں کے تنازعے پر ایک ہفتے تک بند کیے رکھا تھا۔