.

خریداری مراکز میں ملازمتیں صرف سعودی شہریوں کو دینے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر محنت نے بڑے خریداری مراکز (شاپنگ مالز) میں ملازمتیں صرف سعودی شہریوں کو دینے کا حکم جاری کیا ہے۔اس وقت ان مراکز میں پرچون کے شعبے (ریٹیل سیکٹر) میں کام کرنے والے ہر پانچ ملازمین میں سے صرف ایک سعودی ہے۔

سعودی عرب میں بتدریج مختلف شعبوں میں غیرملکیوں کے لیے ملازمت کے دروازے بند کیے جارہے ہیں۔سعودی مملکت میں مقیم غیرملکی تارکین وطن کا کل آبادی کا ایک تہائی ہیں۔ سعودی حکومت اپنی نوجوان آبادی میں بے روزگاری کی شرح کم کرنے کے لیے اب انھیں ملازمتوں میں ترجیح دے رہی ہے۔

سعودی وزیر محنت اور سماجی ترقی نے جمعرات کو ٹویٹر پر ایک بیان جاری کیا ہے۔اس میں شاپنگ مالز کی تعریف ’’ بند تجارتی مراکز‘‘ کے طور پر کی گئی ہے لیکن اس میں اس حکم پر عمل درآمد کا کوئی نظام الاوقات نہیں دیا گیا اور نہ متاثر ہونے والی ملازمتوں کی تعداد بتائی گئی ہے۔

گذشتہ سال اعلان کردہ اقتصادی اصلاحات کے منصوبے سعودی ویژن 2030ء کے مطابق مملکت میں پرچون کے شعبے میں اس وقت پندرہ لاکھ کارکنان کام کررہے ہیں۔ان میں صرف تین لاکھ سعودی شہری ہیں۔اس منصوبے کے تحت 2020ء تک اس شعبے میں سعودیوں کو دس لاکھ تک ملازمتیں دینے پر زوردیا گیا ہے۔