.

صدر ٹرمپ کے آیندہ ماہ سعودی عرب کے دورے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آیندہ ماہ یورپ کا دورہ کریں گے۔جنوری میں صدارت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا غیرملکی دورہ ہوگا۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ اس دورے میں سعودی عرب کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

صدر ٹرمپ برسلز میں 25 مئی کو معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور 26 سے 28 مئی تک سسلی میں منعقد ہونے والے گروپ سات کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے جائیں گے۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بدھ کو سعودی دارالحکومت الریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے بعد میں ایک بیان میں توقع ظاہر کی ہے کہ ان کی آمد سے صدر ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کی راہ ہموار ہوگی۔

سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مارچ میں واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔اس کو سعودی عرب کے ایک سینیر مشیر نے امریکا،سعودی تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی کا نقطہ قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے پیش رو صدر براک اوباما نے قریباً ایک سال قبل سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔انھوں نے چھے ملکی خلیج تعاون کونسل کی قیادت سے ملاقات کی تھی اور ان سے خلیجی ممالک اور امریکا کے درمیان تعلقات ،خطے کی صورت حال اور داعش کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالنے کے بعد سے مشرق وسطیٰ اور داعش کے خلاف جنگ کو اپنی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت دے رکھی ہے۔انھوں نے اس ماہ کے اوائل میں شامی فورسز کے صوبے ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پر کیمیائی حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور امریکی بحریہ کو حمص میں شامی فضائیہ کے ایک اڈے پر کروز میزائل فائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

دریں اثناء وائٹ ہاؤس کے ترجمان شیان سپائسر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے یورپ کے دورے میں ویٹی کن کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جہاں وہ پاپائے روم پوپ فرانسیس سے ملاقات کریں گے۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس سلسلے میں ویٹی کن سے رابطہ کریں گے کہ آیا ان (مذکورہ بالا) تاریخوں میں صدر کا دورہ ممکن ہوسکتا ہے۔