.

شام میں کیمیائی حملے کی تحقیقات ،روس کا حمایت نہ کرنے پرامریکا سے گلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اپنے امریکی ہم منصب سے فون پر بات چیت میں شام میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لیے روس کے منصوبے کی حمایت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اوران سے اس کا گلہ کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے فون کی تحریک کی تھی۔سرگئی لاروف نے ان سے روس اور ایران کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) میں شام میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لیے پیش کردہ نئی تجویز کے بارے میں آگاہ کیا۔

لاروف نے اپنے ہم منصب سے امریکا کی جانب سے اس تجویز کی مخالفت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔اس تجویز میں ہیگ میں قائم تنظیم سے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کے قصبے خان شیخون پر 4 اپریل کو سیرین گیس کے مبیّنہ حملے کی تحقیقات کے لیے عالمی معائنہ کار بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

روسی وزارت کے مطابق لاروف اور ٹیلرسن نے او پی سی ڈبلیو کی نگرانی میں واقعے کی معروضی تحقیقات کے امکان سے اتفاق کیا ہے۔دونوں نے امریکا اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں کچھاؤ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک ورکنگ گروپ کی جلد تشکیل سے بھی اتفاق کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بعد میں ٹیلی فون پر اس گفتگو کے بارے میں اپنا بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹیلرسن اور لاروف نے دوطرفہ امور اور شام میں 4 اپریل کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی او پی سی ڈبلیو سے تحقیقات ایسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا ہے اور ٹیلرسن نے او پی سی ڈبلیو کے موجودہ میکانزم کے تحت ہی تحقیقات کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔واضح رہے کہ روس اور امریکا کے درمیان تعلقات میں یوکرین کے بحران اور شامی بحران کی وجہ سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔

او پی سی ڈبلیو نے جمعرات کو کثرت رائے سے روس اور ایران کی جانب سے شام میں کیمیائی حملے کی نئی تحقیقات کے لیے تجویز کو مسترد کردیا تھا اور پہلے سے جاری تحقیقات ہی کی توثیق کی تھی۔

ان دونوں ملکوں نے اپنی تجویز کے مسودے میں اس امر کی تحقیقات پر زوردیا تھا کہ آیا شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا اور یہ ہتھیار واقعے کی جگہ پر کیسے گرائے گئے تھے۔ انھوں نے شام کے فضائی اڈے الشعیرات کے جائزے کے لیے بھی عالمی ادارے سے معائنہ کار بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ وہاں کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے سے متعلق الزام کی تصدیق ہوسکے۔اس اڈے پر امریکی بحریہ نے 59 میزائل گرائے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی پہلے شامی فوج کو اس کیمیائی حملے کا مورد الزام ٹھہرا چکے ہیں لیکن شامی حکومت اس حملے میں ملوّث ہونے کی تردید کرتی چلی آرہی ہے۔شامی باغیوں کے زیر قبضہ خان شیخون پرزہریلی گیس کے حملے میں متعدد بچوں سمیت ستاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔