.

اقتصادی پابندیاں، برطانیہ میں60 ایرانیوں کے بنک اکاؤنٹ منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق برطانوی حکومت نے عالمی اقتصادی پابندیوں کی فہرست میں شامل 60 ایرانیوں کے بنک اکاؤنٹ منجمد کردیے ہیں۔

برطانوی اخبار ’گارجین‘ نے انسانی حقوق گروپ ’بلاک اسٹون سولی سیٹرس‘ کے ایک عہدیدار کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت نے متنازع جوہر پروگرام کی وجہ سے پابندیوں کی زد میں آنے والے ساٹھ ایرانیوں کے بنک کھاتے منجمد کردیے ہیں۔

اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے منصب صدارت سنھبالنے اور ایران کےجوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے پر نظر ثانی کے اعلان برطانوی حکومت نے بھی ایرانیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا ہے۔ ٹرمپ کے اقتدار سنھبالنے کے بعد 60 ایرانیوں کے بنک کھاتے منجد کیے گئے ہیں۔

’گارجین‘ کے بہ قول برطانوی بنکوں کی طرف سے ایرانیوں کے بنک کاؤنٹس منجمد کرنے کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں تاہم ذرائع ابلاغ نے رپورٹس میں بتایا ہے کہ بنک کھاتے متنازع جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے بند کیے گئے ہیں۔

’بلیک اسٹون گروپ‘ کے قانون مشیران کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کی بنک کھاتوں کو منجد کرنے کا فیصلہ جوہری معاہدے کے بعد ایران پر عاید پابندیوں کے معاملے سے نمٹنے کے بعد کیا گیا۔ امریکا اور یورپی حکومتوں نے بار بار دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کا ہدف ایران کے عام شہری نہیں بلکہ وہ گروپ اور شخصیات ہیں جو ایران کے جوہری نظام سے کسی نا کسی شکل میں وابستہ ہیں۔

خیال رہے کہ برطانوی حکومت نے رواں اپریل کےاوائل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران پر بعض اقتصادی پابندیاں اگلے آٹھ سال تک برقرار رہیں گی۔ بیان میں کہا گیا تھا یہ پابندیاں دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی وجہ سے عاید کی گئی ہیں۔