.

حزب اللہ سے نمٹنے کو تیار ہیں: امریکا

میشل عون کی حزب اللہ بارے مبہم پالیسی باعث تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حسب معمول ایک نئی انتظامیہ کی طرح امریکا کی نئی حکومت لبنان کی موجودہ امن امان اور سیاسی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس کےساتھ ساتھ امریکا نے ایران کے بارے میں سابقہ حکومت کی پالیسی ترک کرتے ہوئے زیادہ جرات مندانہ اور سخت موقف اپنایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نئی امریکی انتظامیہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی طرف سےخطے کو درپیش خطرات سے نمٹںے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے مگر امریکیوں کے لیے لبنانی صدر میشل عون کی حزب اللہ بارے مبہم پالیسیوں پر تشویش بھی لاحق ہے۔ امریکی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا صدر عون کا حزب اللہ کے بارے میں موقف کیا ہے اور وہ مستقبل میں اس خطرناک جنگجو گروپ سے کس طرح نمٹنا چاہتے ہیں؟۔

فوج اور جوزف عون

امریکی انتظامیہ کی اولین ترجیح ’داعش‘ کو کچلنا ہے۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں بیروت ایک مضبوط اتحادی ہے۔ لبنانی فوج نے داعش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور خدمات بھی انجام دی ہیں۔

امریکا گذشتہ 10 سال سے لبنانی فوج کے تعاون سے ایک ’بہتر اور مفید سرمائے‘ کے طور پر مستفید ہو رہا ہے۔ اس بات کا اعتراف چند ہفتے قبل امریکی جنرل جوزیف فوٹیل نے کانگریس کے سامنے ایک بیان میں بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا لبنانی فوج کو ایک متواضع فورس سے لے کر سرحدوں کی حفاظت کی صلاحیت کی حامل اور داعش کے خلاف جنگ کے لیے پرعزم طاقت سمجھتا ہے۔ لبنانی فوج کے بارے میں امریکی قومی سلامتی کونس۔ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ سب کا اتفاق ہے۔

جہاں تک لبنانی فوج نے موجودہ سربراہ العماد جوزف عون کا تعلق ہے تو وہ بھی امریکا سے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ پینٹاگون کے بھی جانے پہچانے آدمی ہیں اور غالبا پیش آئند ماہ وہ امریکا کا دورہ بھی کریں گے۔

لبنانی فوج کی کمان جوزف عون کے ہاتھ میں دیے جانے پر امریکیوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ ایسے ہی جیسے امریکی تربیت یافتہ افواج کے سربراہان کی قیادت کسی اعتدال پسند اور مذہبی رہ نما کے ہاتھ میں آنے سے اطمینان ہونا چاہیے۔ کیونکہ افواج کی سطح پر امریکا دوست ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔ اس کی مثال مصر کی لی جا سکتی ہے، جہاں فوج کی اعلیٰ کمان اور امریکی محکمہ دفاع کے درمیان گہرے تعلقات اور باہمی تعاون موجود ہے۔ یا خلیجی ممالک کی افواج اور امریکا کے درمیان تعاون کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔

داعش اور لبنان

لبنانیوں کے نزدیک اولین ترجیح شام سے آنے والے پناہ گزینوں کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ اس مقصد میں امریکا بھی لبنانی فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بھرپور مدد کر رہا ہے تاکہ لبنان پر پناہ گزینوں کا پڑنے والا بوجھ کم کیا جا سکے۔

سچ یہ ہے کہ لبنان میں پناہ گزینوں کا مسئلہ اس لیے پیچیدہ ہے کہ شام اور لبنان کی سرحد پر ایسا کوئی علاقہ موجودنہیں جسے ’محفوظ زون‘ قرار دے کر پناہ گزینوں کو اس میں منتقل کیا جا سکے۔

علاوہ ازیں امریکیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیروت داعشی عناصر کے عراق اور شام سے لبنان کی طرف فرار سے بھی پریشان ہے۔ داعش اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے عناصر جن میں فلسطینی بھی شامل ہیں کے لبنان میں اپنے ہم نواؤں سے رابطے ہیں۔ وہ لبنان میں پناہ گزین کیمپوں میں پھل سکتے ہیں۔

اس لیے امریکی انٹیلی جنس ادارے بھی لبنان کی داعش کو قابو میں کرنے کی پالیسی سے مطمئن نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جزیرہ سیناء کی طرح لبنان میں بھی داعش ایک خطرہ بن سکتی ہے۔

حزب اللہ کے ساتھ یا خلاف

لبنان میں داعش کے تقویت پکڑنے کے خطرے کےساتھ ساتھ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا خطرہ بھی امریکا کے لیے کم باعث تشویش نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سابق امریکی حکومتیں حزب اللہ سے نمٹنے کے حوالے سے غلط پالیسی پرعمل پیرا رہی ہیں۔ سابق صدر باراک اوباما کی ایران بارے پالیسی بھی ایسی غلطیوں کا مجموعہ تھی۔

چونکہ امریکا نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیلی کی ہے، اس لیے واشنگٹن کا حزب اللہ سے نمٹنے سے متعلق موقف بھی واضح ہے۔ واشنگٹن حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے جو شام اور لبنان دونوں ملکوں میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کر رہی ہے۔ اب اس تنظیم کے ڈانڈے یمن تک پھیل رہے ہیں اور دوسرے عرب ملکوں میں بھی یہ اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ماضی میں امریکی حکومتوں نے حزب اللہ کے عالم گیر نیٹ ورک کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے یورپی ملکوں کے ساتھ مل کرکوئی جاندار اور موثر کوشش نہیں کی مگر موجودہ امریکی انتظامیہ حزب اللہ کے خلاف جرات مندانہ اور حقائق پر مبنی موقف اپنانے کا عزم لیےہوئے ہے اور حزب اللہ سے وابستہ شخصیات پر پابندیاں بھی عاید کر رہی ہے۔

لبنان کا ابہام

امریکا میں لبنانی صدر میشل عون کی حزب اللہ بارے پالیسی بھی زیربحث ہے۔ بعض امریکی عہدیداروں کاخیال ہے کہ صدر عون حزب اللہ کے خلاف کسی موثر کارروائی کے حامی نہیں۔ اس لیے لبنانی سیاسی قیادت بالخصوص صدر عون کی پالیسیوں میں حزب اللہ کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔

کئی لبنانی حکومتی عہدیداروں نے امریکیوں کے سامنے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح نہ کرنے کے حوالے سے صدر جمہوریہ کے بعض بیانات کو بطور جواز بیان کرتے ہیں۔

حال ہی میں لبنانی وزیر خارجہ جبران باسل اور کئی دوسرے وزراء نے امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عالمی بنک اور ’آئی ایم ایف‘ کے اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان دوروں میں لبنانی حکام نے امریکا پرواضح کیا کہ بیروت اور واشنگٹن کے درمیان دوستانہ تعلقات متوازن اور مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ مگرامریکی ان سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ آیا وہ ایران کے دباؤسے کیسے آزاد ہوسکتے ہیں۔ نیز یہ کہ صدر میشل عون پرحزب اللہ کی طرف میلان کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔ امریکیوں کا خیال ہےکہ وزیراعظم سعد حریری اور لبنانی فورسز کے سربراہ سمیر جعجع کا حزب اللہ کے بارے میں موقف واضح ہے مگر صدر عون کا انداز فکر حزب اللہ کے حوالے سے مختلف ہے۔ ان کی حزب اللہ بارے پالیسی میں ابہام ہی امریکا کے لیے باعث تشویش ہے۔