.

’فاکس نیوز‘ کے سبکدوش میزبان کے لیے 25 ملین ڈالر کی رقم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ٹیلی ویژن چینل ’فاکس نیوز‘ کے جنسی ہراسانی کے الزام میں ملازمت سے فارغ کیے گئے دیرینہ میزبان ’بیل اورائیلی‘ کو ٹی وی چینل کی طرف سے 25 ملین ڈالر کی رقم ادا کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی اس خبر کی ’فاکس نیوز‘ کی طرف سےتصدیق نہیں کی گئی آیا وہ اپنے مشہور میزبان کو نوکری سے نکالے جانے کے بعد اسے ہرجانے کے طور پر یہ رقم ادا کرے گا یا نہیں۔ تاہم ذرائع ابلاغ کے مطابق پچیس ملین ڈالر کی رقم بیل اورائیلی کی ایک سال کی مجموعی تنخواہ سے کم ہے جو وہ ٹی وی چینل سے گذشتہ برسوں میں لیتے رہے ہیں۔

67 سالہ بیل اورائیلی کئی سال تک ’فاکس نیوز‘ کے ’دی اورائیلی فیکٹر‘ نامی پروگرام کے میزبان رہے ہیں۔ ان کا فلیگ شپ ٹی وی شو بہت زیادہ دیکھا جانے والا تھا مگر حال ہی میں ان پر خواتین کی طرف سے جنسی ہراسانی کا الزام سامنے آنے کے بعد ٹی وی انتظامیہ نے انہیں ملازمت سے ہٹا دیا تھا۔ ان کی جگہ اس ٹی وی شو کی میزبانی ایک دوسرے صحافی ’ٹاکر کلارسن‘ کو دی گئی ہے۔

سینتالیس سالہ ٹاکر کلارسن اپنے اشتعال انگیز بیانات اور سخت گیر موقف کی وجہ سے مشہور ہیں۔ انہوں نے ’فاکس نیوز‘ میں تین ماہ قبل کام شروع کیا تھا۔

اس سے قبل بیل اورائیلی کا پروگرام مسلسل 20 سال تک ٹی وی کے ٹاک شوز میں چھایا رہا ہے۔ ایک بار اس پروگرام کی ریٹنگ 30 لاکھ ناظرین سے تجاوز کرگئی تھی۔

اپریل کے اوائل میں اخبار’نیویارک ٹائمز‘ نے ایک اسٹوری فائل کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اورائیلی اور فاکس نیوز نے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی پانچ خواتین کو زبان بند رکھنے کے لیے 13 ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ اگرچہ اورائیلی نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے تاہم ٹی وی انتظامیہ نے انہیں ملازمت سے ہٹا دیا۔