.

فرانس صدارتی انتخاب : میکرون اور لی پین میں 7 مئی کو دوبارہ مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں اتوار کو منعقدہ صدارتی انتخابات کے ابتدائی غیر حتمی نتائج اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نوجوان امیدوار عمانوایل میکرون کو دائیں بازو کی قوم پرست رہ نما میرین لی پین پر برتری حاصل ہے اور ان دونوں کے درمیان ہی 7 مئی کو دوبارہ حتمی مقابلہ ہوگا۔

فرانس کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں نوزائیدہ جماعت سیاسی تحریک کے امیدوار میکرون 23 ،24 فی صد ووٹ لے سکتے ہیں جبکہ لی پین کے حق میں 21.6سے 23 فی صد تک ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ سابق قدامت پرست وزیر اعظم فرانسو فیلن کے تیسرے نمبر اور بائیں بازو کے امیدوار ژاں لک میلنچین کے چوتھے نمبر پر رہنے کا امکان ہے۔

صدارتی انتخابات میں کل گیارہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔فرانس میں اتوار کو سخت سکیورٹی میں قریباً 67 ہزار پولنگ مراکز پر ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور ملک کی کل آبادی میں سے قریباً چار کروڑ ستر لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

پیرس میں العربیہ کے نمائندے کے مطابق فرانس کی حالیہ تاریخ میں یہ سب سے زیادہ ناقابل پیشین گوئی انتخابات ہیں۔ان میں موجودہ صدر فرانسو اولاند نے ہار کے خوف سے حصہ نہیں لیا ہے کیونکہ ان کی پالیسیوں اور فرانس میں گذشتہ مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے وہ کوئی زیادہ مقبول نہیں رہے تھے۔

دوسری جانب مذکورہ بالا دونوں نمایاں صدارتی امیدوار ایک دوسرے کے بالکل برعکس پالیسیوں کے حامل ہیں۔دائیں بازو کی امیدوار لی پین نے سکیورٹی پالیسیوں سے لے کر اسلام تک جو کچھ تجویز کیا ہے،عمانوایل میکرون اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

فرانس میں بے روزگاری کی دس فی صد شرح ،اس کی کمزور ہوتی معیشت اور سکیورٹی سے متعلق ایشوز صدارتی انتخابات کے لیے مہم کا اہم موضوع رہے ہیں اور صدارتی امیدواران ان مسائل کے حل کے لیے بلند بانگ دعوے کرتے اور ایک دوسرے کی پالیسیوں کی تردید کرتے رہے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح 80 فی صد کے لگ بھگ رہنے کی توقع ہے۔ 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں بھی ووٹ ڈالنے کی شرح کم وبیش یہی رہی تھی لیکن پولنگ سے قبل قریباً 30 فی صد ووٹروں نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ کس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتالیس سالہ سابق بنک کار میکرون صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ جیت جائیں گے اور وہ 7 مئی کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں بھی نیشنل فرنٹ کی قوم پرست امیدوار لی پین کو شکست سے دوچار کریں گے۔فرانس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ عشروں سے ملک پر حکمرانی کرنے والی بڑی جماعتوں میں سے کسی کا صدارتی امیدوار جیت میں ناکام رہا ہے۔

ان انتخابات میں سیاست میں نووارد میکرون نے خود کو ایک ترقی پسند امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کا قدامت پرستوں سے مقابلہ ہے جبکہ ان کی قریب ترین حریف لی پین نے خود کو محب وطن قرار دیا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کا عالمگیر رجحان کے حامل امیدواروں سے مقابلہ ہے۔وہ تارکین وطن کے لیے فرانس کی سرحدیں بند کرنے کے نعرے کے ساتھ قوم پرست ووٹروں کے دل جیتنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔