.

کیا ایران میں صدارتی انتخابات سے کچھ تبدیل ہوسکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا مبینہ طور پر ایران میں 19 مئی کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد حکمراں رجیم کے بارے میں مختلف حکمت عملیوں پر غور کررہا ہے اور یہ بھی سوچا جا رہا ہے کہ امریکا اگر ایران کے خلاف سزا کے طور پر کوئی اقدام کرتا ہے تو اس سے سخت گیروں کو اعتدال پسندوں کے مقابلے میں فائدہ پہنچے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران میں رجیم کو ایرانیوں یا خطے بھر کے عوام سے کوئی دلی ہمدردی نہیں ہے۔یہ دلیل دی جاتی ہےکہ مغرب کے اقدامات ایران میں انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں لیکن یہ دلیل پیش کرنے والے یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے حاشیہ نشینوں سے کیا چھپا پڑا ہے۔

انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کی جانچ پڑتال بارہ ارکان پر مشتمل شورائے نگہبان کونسل نے کی ہے۔انھیں خامنہ ای بالواسطہ یا بلا واسطہ مقرر کرتے ہیں۔صدارتی امیدواروں کی فہرست جانچ پڑتال کے بعد صرف چھے تک محدود رہ گئی ہے۔

ان میں موجودہ صدر حسن روحانی ،سخت گیر عالم ابراہیم رئیسی ،ایران کے اول نائب صدر اسحاق جہانگیری ، تہران کے میئر محمد باقر قالیباف ،سابق وزیر ثقافت مصطفیٰ میر سلیم اور سابق وزیر صنعت مصطفیٰ حشمت آبادی شامل ہیں۔بادی النظر میں لگتا ہے کہ موخر الذکر چار امیدوار صدر حسن روحانی یا رئیسی میں سے کسی ایک کے حق میں دستبردار ہوجائیں گے۔

انتخابات سے کوئی تبدیلی نہیں

ایران میں منعقد ہونے والے انتخابات سے داخلہ یا خارجہ پالیسی پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں۔اگر داخلی ایشوز کی بات کی جائے تو ’’ اعتدال پسند‘‘ روحانی اور ان سے قبل سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں کریک ڈاؤن ،گرفتاریوں ،تشدد اور پھانسیوں میں اضافہ ہی ہوا تھا۔ خاتمی بھی اعتدال پسند کہلاتے ہیں۔

حسن روحانی کے گذشتہ چار سالہ دور میں قریباً تین ہزار پھانسیاں دی گئی ہیں اور یہ تعداد ان کے شعلہ بیان پیش رو محمود احمدی نژاد کے دور میں تختہ دار پر لٹکائے جانے والے افراد کی تعداد سے زیادہ ہے۔

جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو پے در پے آنے والی حکومتیں ایران کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے ہی کی مشتاق رہی ہیں۔حسن روحانی نے حال ہی میں دوسرے ایرانی عہدے داروں کی طرح یہ کہا ہے کہ ’’ جوہری ٹیکنالوجی کی ہمیں اشد ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای جوہری ٹیکنالوجی کو ترقی دینے پر زوردیتے رہتے ہیں۔

صدر روحانی کی حکومت نے ملک کے دفاعی بجٹ میں 145 فی صد تک اضافہ کیا ہے۔اس کا اظہار انھوں نے یوں کیا:’’ یہ اس حکومت کے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ گذشتہ ساڑھے تین سال کے دوران میں مسلح افواج کو اتنی زیادہ تعداد میں تزویراتی آلات اور اثاثے مہیا کیے گئے ہیں کہ اتنا فوجی سازو سامان گذشتہ دس سال میں بھی مہیا نہیں کیا گیا تھا۔

حسن روحانی کے ایرانی رجیم کے بانی روح اللہ خمینی کے ساتھ 1979ء کے انقلاب کے بعد تعلقات رہے تھے۔ان کے قریب ترین حریف رئیسی گذشتہ تین عشروں کے دوران میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ عدلیہ میں خدمات انجام دینے کے دوران حکومت مخالفین کو کسی تردد کے بغیر پھانسیوں پر چڑھانے کی منظوری دیتے رہے تھے۔

رئیسی ایران کے بدنام زمانہ ’’ موت کمیشن‘‘ کے رکن کی حیثیت سے بھی بہت معروف ہیں۔انھوں نے خمینی کے فتوے پر 1988ء کے موسم گرما میں مشہور قتل عام کیا تھا جب چند ماہ کے وقفے میں تیس ہزار سے زیادہ سیاسی قیدیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر ایرانی حزب اختلاف کی جماعت مجاہدین خلق تنظیم کے کارکنان یا حامی تھے۔

امریکا اور مغربی میڈیا ایک بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ وہ ایران کے صدارتی امیدواروں کو اچھائی یا برائی یا اعتدال پسند یا سخت گیر ہونے کی نظر سے دیکھتے ہیں اور مغرب کا ایک اضطراری ردعمل یہ ہے کہ اگر رئیسی بد ترین ہیں تو پھر حسن روحانی کی حمایت کی جائے۔

مگر ایران کا آیندہ صدر جو کوئی بھی منتخب ہوگا ،وہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قول وفعل کے مطابق ہی چلے گا اور وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا ہے۔

آج کے ایران میں حقیقی لبرلز کی کوئی نمائندگی نہیں ہے اور مستقبل قریب میں بھی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے۔اگر روحانی اور رئیسی کے درمیان ہی صدارتی انتخاب کا حتمی معرکہ ہوتا ہے اور حسن روحانی آیندہ چار سال کی مدت کے لیے دوبارہ صدر منتخب ہوجاتے ہیں تو اس سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔صدر روحانی آیت اللہ علی خامنہ ای کی پالیسیوں پر چل رہے ہیں اور آیندہ بھی چلتے رہیں گے۔انھوں نے سپریم لیڈر کی آشیرباد ہی سے عالمی طاقتوں سے جوہری پروگرام کا تنازع طے کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے۔

وہ شام میں ایران کی مداخلت اور عراق ،یمن ،بحرین اور لیبیا میں گماشتہ ملیشیاؤں کی حمایت کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کی بھی حمایت کررہے ہیں۔

ایران میں ہر چار سال کے بعد منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ وہ محض ایک کھیل ہیں۔ ایرانی صدر کا ملک کو چلانے میں کوئی حقیقی کردار نہیں ہوتا اور قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ایسے ایشوز میں سپریم لیڈر ہی حرف اول اور حرف آخر ہیں۔انھیں رجیم کے نام نہاد آئین کے تحت صدر کو حاصل اختیار کو ویٹو اور معطل کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔

صدارتی انتخابات کے بعد بھی ایران کی خارجہ پالیسی اور داخلہ معاملات میں کوئی جوہری تبدیلی رو نما نہیں ہوگی اور تمام امور پہلے کی طرح ہی نمٹائے جائیں گے۔اس لیے پاسداران انقلاب کور کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا عمل کسی سبب اور خاص طور پر ایران میں صدارتی انتخاب کی بنا پرموخر نہیں کیا جانا چاہیے۔

دا ڈیلی بیسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کور ایران کا سب سے اہم سکیورٹی ،فوجی اور سیاسی ادارہ ہے۔اس کے ملکی معیشت کے بیشتر شعبوں میں مالی مفادات وابستہ ہیں۔ اس کی عالمی کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کو امریکا کے محکمہ خزانہ نے 2007ء میں دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔اس سے ایک عشرہ قبل حزب اللہ کو 1997ء میں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔اب وقت آگیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بحرانوں کی اصل جڑ کو نشانہ بنایا جائے۔