.

فرانسیسی محقق پر صدر طیب ایردوآن کے قتل کی شہ دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے وکیل نے ایک فرانسیسی ماہر سیاسیات کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔اس میں فرانسیسی محقق پر ترک صدر کے قتل کی شہ دینے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ محقق فلپ موریو دفرجیس یہ الزام 16 اپریل کو ترکی میں منعقدہ دستوری ریفرینڈم کے نتیجے کے بارے میں ایک سخت بیان کے ردعمل میں لگایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ صدر ایردوآن کو چیلنج کرنے والے تمام قانونی راستے بند کردیے گئے ہیں اور اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں: خانہ جنگی یا قتل۔

ریفرینڈم میں ’’ہاں‘‘ کیمپ کے حق میں 51 فی صد ووٹ ڈالے گئے تھے اور ناں کے حق میں 49 فی صد ووٹ پڑے تھے۔حزبِ اختلاف نے انتخابی بے ضابطگیوں کے بعد ریفرینڈم کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ملک کے الیکشن کمیشن نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

دفرجیس نے فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایردوآن نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنا لی ہے اور اس سے طوائف الملوکی ہی کی راہ ہموار ہوگی۔اس صورت حال میں خانہ جنگی ہوگی یا پھر ایک منظر ہوگا اور وہ ان کا قتل ہے‘‘۔

صدر رجب طیب ایردوآن کے وکیل حسین عایدین نے کہا ہے کہ دفرجیس کا یہ بیان محض اظہار رائے کا مظہر نہیں ہے بلکہ اس سے تو واضح طور پر جرم پر اکسانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق عایدین نے انقرہ کے ایک پراسیکیوٹر کے ہاں چار صفحات پر مشتمل درخواست جمع کرائی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ایردوآن اگست 2014ء میں صدر منتخب ہونے کے بعد سے مطلق العنان بن گئے ہیں۔اس سے پہلے وہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک وزیراعظم رہے تھے۔صدر بننے کے بعد سے ان کی توہین کے الزام میں متعدد فن کاروں ،صحافیوں اور اسکول کے بچوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔