.

اسرائیل میں پہلی بارعرب شرعی خاتون جج تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی خاتون وزیر انصاف ایلیت شاکید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان عرب خاتون کو جج تعینات کیا گیا ہے جو اسرائیل میں مقیم مسلمانوں کے اسلامی شرعی کیسز نمٹائے گی۔

’جیوش ہوم‘ کی خاتون رہ نما شاکید نے کہا کہ مسلمان خاتون جج کی تعیناتی ججوں کی ایک کمیٹی کی طرف سے کی گئی ہے۔ کمیٹی نے ملکی تاریخ میں ھنا خطیب کو پہلی اسلامی شرعی جج تعینات کیا ہے۔

خیال رہے کہ جسٹس ھناء خطیب نے ایل ایل بھی کررکھا ہے۔ وہ شمالی الخلیل میں طمرہ قصبے میں ایک اسلامی فیملی امور سے متعلق قانون کی ماہر سمجھی جاتی ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور چار بچوں کی ماں ہیں۔

اسرائیلی خاتون وزیر قانون کا کہنا ہے کہ ہم نے ملک میں پہلی بار ایک مسلمان خاتون جج کو اسلام کے شرعی امور سے متعلق کیسز نمٹانے کے لیے مقرر کیا ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔

اسرائیل میں 9 اسلامی شرعی عدالتیں موجود ہیں جن میں ججوں کی تعداد 18 ہے تاہم دوسرے مذاہب کی کوئی خاتون جج تعینات نہیں۔ حتیٰ کہ عیسائی، یہودی اور درز مذاہب کی کوئی خاتون جج تعینات نہیں۔ اپنی تعیناتی کے 14 دن بعد جسٹس ھناء خطیب اسرائیلی صدر رؤوف ریفلین کی موجودگی میں حلف اٹھائیں گی۔

قبل ازیں سنہ 2015ء میں فلسطینی اتھارٹی نے شریعت کورٹ کی خواتین ججوں کی تعیناتی کی مثال قائم کی تھی۔ فلسطینی عدالتوں کے لیے دو خواتین جج تعینات کی گئیں۔

اسرائیل کے عبرانی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ھناء خطیب نے کہا کہ وہ گذشتہ 17 سال سے ایک وکیل کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ شرعی امور پر گہری دسترس رکھتی ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے سرکاری قانون میں چار شادیوں کی اجازت نہیں۔ اس پابندی کی وجہ سے اسرائیل میں رہنے والے فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں شادیاں کرتے ہیں۔ اسرائیل ایسے شہریوں کی بیویوں کو شہریت نہیں دیتا تاہم ان کی اولاد کو اسرائیل کا ریاستی باشندہ قرار دیتا ہے۔