.

ایران میں خواتین کی اسمگلنگ کا مکروہ دھندہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں صدر حسن روحانی کی خصوصی مندوب برائے حقوق نسواں کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں جرائم پیشہ عناصر دھڑلے کے ساتھ خواتین کی اسمگلنگ کا مکروہ کاروباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی حکومت میں شامل خواتین سے متعلق امور کی ڈائریکٹر اشرف گرامی زادگان نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ملک میں خواتین کی غیرقانونی اسمگلنگ اور خریدو فروخت کا دھندہ اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران حکومت ملک میں خواتین کی تجارت اور ان کی اسمگلنگ کے مکروہ دہندے کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کررہی ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی حکومت اس سے قبل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ملک میں خواتین کی اسمگلنگ کا کوئی کاروبار نہیں۔

’ایلنا‘ خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں اشرف گرامی زادگان نے کہا کہ ملک میں خواتین کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعدد تجاویز سامنے آئی ہیں۔

مسز زاد گان کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سامنےآنے والی تجاویز کو کابینہ سے منظوری کے بعد پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] میں پیش کریں گے۔

خواتین کی اسمگلنگ، ایران میں فروغ پذیر کاروبار

گذشتہ دسمبر میں ایرانی اخبار ’جہان صنعت‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خواتین کی خریدو فروخت کا دھندہ پورے ملک میں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ ’ایرانی خواتین اور بچیوں کی خریدو فروخت‘ کے عنوان سے شائع کردہ رپورٹ میں ملک میں خواتین کے تحفظ کے سرکاری ادارے کے سربراہ کا بیان نقل کیا گیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی اندرون اور بیرون ملک خریدو فروخت ایک مکروہ دہندہ ہے جو مختلف اشکال میں ملک میں جاری ہے۔ خواتین کو دوسرے ملکوں ک فروخت کیا جاتا ہے اور مال بردار گاڑیوں اور سامان میں چھپا کر بیرون ملک منتقل کیا جاتا ہے۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی خواتین اور دو شیزائوں کو لکژری ہوٹلوں، تہران اور دوسرے شہروں کے تفریحی مقامات، سیرگاہوں، ملک کے شمالی علاقوں اور ساحلی علاقے جزیرہ ’کیش‘ سے خواتین کو خریدا جاتا ہے جہاں سے انہیں دوسرے ملکوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں معاشی ابتری، بے روز گاری اور منشیات کے بڑھتے رحجان اور طلاق جیسے عوامل خواتین کی اسمگلنگ اور ان کی خریدو فروخت کے دھندے کو تقویت دے رہے ہیں۔

سال 2015ء کی نسبت 2016ء میں ایران میں انسانی اسمگلنگ کے تناسب میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔ میڈیا رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے الزام عاید کیا جاتا ہے کہ حکومت انسانی تجارت کے دھندے کی روک تھام کے لیے کما حقہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے نتیجے میں ایران میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کو اپنا جال پھیلانے کا موقع ملا ہے۔