.

ایران :ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے منھ میں دھکیلنے والا صدارتی امیدوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں ایک ایسے صاحب بھی امیدوار ہیں جن کے ہاتھ ایک دو نہیں، ہزاروں افراد کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ابراہیم رئیسی ہیں جو 1988ء میں ایران کے بدنام زمانہ ’’موت کمیشن‘‘ کے رکن تھے۔اس کمیشن نے ایرانی نظام کی مخالفت کرنے والے ہزاروں سیاسی قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانے یا جبر وتشدد کے دوسرے طریقوں سے موت کی نیند سلانے کی منظوری دی تھی۔

ایرانی حزب اختلاف کے مطابق ایرانی حکام نے 1988ء میں ساڑھے تین ہزار سے پندرہ ہزار تک سیاسی قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکایا تھا۔ان میں سے اکثریت کا تعلق ایرانی حزب اختلاف کی جماعت مجاہدین خلق سے تھا۔

56 سالہ ابراہیم رئیسی کے پاسداران انقلاب ایران ،سکیورٹی اداروں اور عدلیہ کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار ہیں۔انھیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔تاہم ایرانی عوام میں وہ موت کمیشن سے تعلق کی بنا پر کوئی زیادہ مقبول نہیں ہیں۔

اس وقت وہ ماہرین کی اسمبلی ،خصوصی علماء عدالت کے جنرل ڈپٹی اور آستانہ قدس رضوی کے متولی ہیں۔یہ مشہد میں ایک خود مختار خیراتی فاؤنڈیشن ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے دفاع کے لیے کام کرنے والی تحریک کی ویب سائٹ نے ابراہیم رئیسی کے صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کی مذمت کی ہے۔اس نے ان پر انسانی کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام عاید کیا ہے۔

اس مہم کے سربراہ ہادی قائمی نے کہا ہے کہ ’’ رئیسی کے خلاف ان سنگین جرائم کے الزامات میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے چہ جائیکہ وہ ملک کا صدر بننے کی خواہش کریں اور صدارتی انتخاب لڑیں‘‘۔