.

شامی صدر بشارالاسد کو جانا ہوگا : عادل الجبیر

سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی مداخلت کا خاتمہ چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے،انھیں جانا ہوگا۔

انھوں نے یہ بات بدھ کے روز ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے شام کے مستقبل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

عادل الجبیر نے صحافیوں سے گفتگو میں یہ بھی کہا ہے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ایران کی مداخلت کا خاتمہ چاہتا ہے۔انھوں نے روس کی حمایت سے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام امن مذاکرات کے بارے میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے شرکاء کی فہرست کو بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور روس کے درمیان شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔روس بشارالاسد کے استعفے کا مطالبہ مسترد کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ انتخابات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ تاہم روس اور سعودی عرب میں شام میں جاری بحران کے خاتمے کے حوالے سے کوئی زیادہ اختلافات نہیں پائے جاتے ہیں۔