.

حسن روحانی ۔۔ اسرائیل سے اسلحے کی ڈیل سے منصب صدارت تک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی اگلے پانچ سال کے لیے ایک بار منصب صدارت کے لیے قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ انہیں نسبتا اعتدال پسند رہ نما خیال کیا جاتا ہے اور ایران یں انہیں اصلاح پسند حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ حال ہی میں ایران کی دستوری کونسل نے انہیں پانچ دوسرے امیدواروں کے ساتھ صدارتی انتخابات کے لیے اہل قرار دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے حسن روحانی کی زندگی پر روشنی ڈالی ہےاور بتایا ہے کہ کس طرح ایک سخت گیر اور ماردھاڑ کے قائل حسن روحانی ایک اعتدال پسند سفیر بنے۔

حسن روحانی کون؟

حسن روحانی ایران کے شمالی ضلع سرسمنان کے سرخہ شہرمیں پیدا ہوئے۔ قم شہر میں اہل تشیع کے مذہبی مرکز میں دینی تعلیم کے بعد انہوں نے قانون میں گریجوایشن کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلےگئے جہاں سنہ 1995ء کو گلاسکو کالڈونین یونیورسٹی سے ایم اے کیا اورسنہ 1999ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

حسن روحانی کا شمار ایران میں ولایت فقیہ کے نظام کے بانی آیت اللہ علی خمینی کے کٹر وفاداروں میں ہوتا ہے۔ یہ حسن روحانی تھے جنہوں نے ’آیت اللہ خمینی‘ کو ’امام’ کا لقب دیا حالانکہ اہ تشیع میں امام حضرت فاطمہ الزھراء کی اولاد میں پیدا ہونے والے ان بارہ آئمہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن پر اہل تشیع ایمان رکھتے اور انہیں بزرگ مانتے ہیں۔ غیرمذہبی شخصیات کے لیے اس طرح کے القابات بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔

روحانی کی پہلی ملاقات خمینی سے سنہ 1978ء میں فرانس میں ہوئی۔ سنہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کےبعد روحانی کو ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کاعہدہ سونپا گیا اور وہ مسلسل سولہ سال اس عہدے پر فائز رہے۔چھ اکتوبر 2003ء سے 15 اگست 2005ء تک وہ ایران کی جوہری پروگرام پربات چیت کے لیےبنائی گئی کمیٹی کے سینیرمذاکرات کار بھی رہ چکے ہیں۔

روحانی اور ایران کونٹرا کا اسکینڈل

سنہ 1985ء میں سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن نے ایران کے ساتھ اسلحہ کی ایک نئی ڈیل کی۔ اس ڈیل کا مقصد عراق۔ ایران جنگ میں تہران کی دفاعی مدد میں اضافہ کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے لبنان میں یرغمال بنائے گئے پانچ امریکیوں کو بازیاب کرانے میں مدد کی۔ جبکہ امریکا نے اسرائیل کو بتا کر اس کا تیار کردہ اسلحہ ایران کو فروخت کیا۔ امریکا کی طرف سے اسرائیل کے ’ٹاؤ‘ نامی 96 میزائل DC-8 طیارے کی مدد سے ایران بھجوائے گئے۔ علاوہ ازیں امریکی حکومت نے تہران کو 1,217,410 ارب ڈالر بھی ایران کو دیے۔

سنہ 1985ء میں پرتگال سے مزید 18 میزائل اور اسرائیل سے 62 میزائل ایران روانہ کیے گئے۔

کہاجاتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اس ڈیل میں مبینہ طور پر حسن روحانی کا کلیدی کردار تھا۔ سنہ 2013ء میں ’فارن پالیسی‘ میگزین کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 27 مئی 1986ء کو روحانی اور اولی فرنورتھ کے درمیان تہران میں ھیلوٹن ہوٹل میں ملاقات ہوئی۔ اس وقت روحانی خارجہ امور کے مشیر تھے۔ اخباری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دو طرفہ رابطوں کے لیے روحانی نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

تشدد سے اعتدال تک

حسن روحانی کے ماضی اور حال میں کافی فرق ہے۔ ماضی میں انہیں انتہا پسندوں اور پرتشدد خیالات رکھنے والے ایرانی اہل تشیع کے لیڈروں میں شمار کیا جاتا تھا مگر انہوں نے اپنی زندگی میں جوہری تبدیلیاں پیدا کریں۔ لڑائی کے بجائے مخالف سے بات چیت، اعتدال اور توازن کی پالیسی اپنائی۔ ایک اعتدال پسند شخص کے طور پرایران کےجوہری پروگرام پر مذاکرات کاری کی اورآخر کار اعتدال پسند اوراصلاح پسند حلقوں کی حمایت سے وہ سنہ 2013ء میں ایران کے صدر منتخب ہوئے۔

دو سال پیشتر چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر ایک معاہدہ طے پایا۔ یہ معاہدہ بھی روحانی کی اعتدال پسندی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کی مدت صدارت 19 مئی 2017ء کو ختم ہورہی ہے مگر عین ممکن ہے کہ وہ دوبارہ کامیاب ہوجائیں اور اگلے پانچ سال مزید ایران میں صدر کےعہدے پر فائز رہ سکیں۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدہ طے پانے کے باوجود عالمی سطح پر ایران کے لیے مشکلات کم نہیں ہوئی ہیں۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں برقرار ہیں، تیل فروخت کرنے پر پابندی بھی موجود ہے۔بے روزگاری، غربت اور معاشی مسائل اژدھے بن کر روحانی کی راہ میں کھڑے ہیں۔ آنے والے کسی بھی ایران صدر کے لیے اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر بھی ہو سکتا ہے۔