.

سعودی سفارت خانے پرحملے کے ملزمان کا دوبارہ ٹرائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک اپیل کورٹ نے گذشتہ برس تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار کرنے کے شرپسندوں کے خلاف مقدمہ کی دوبارہ سماعت شروع کی ہے۔ سابقہ فیصلوں کے باوجود کسی ملزم کو جیل نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کے خلاف کیس کی دوبارہ سماعت شروع کی گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’ایسنا‘ نے ملزمان کے وکلاء کےحوالے سے بتایا ہے کہ تہران کی ایک اپیل کورٹ نے سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے کے ملزمان کا دوبارہ ٹرائل شروع کیا ہے۔

ایرانی قانون دان اور وکیل مصطفیٰ شعبانی کے بہ قول 20 افراد کو سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے ،اس میں توڑ پھوڑ اور نذرآتش کرنے کے الزامات سے بری قرار دیا تھا۔ دو ملزمان کو برائے نام قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جب کہ پانچ ملزمان کو تین سے چھ ماہ قید کی سزا کا حکم دیا گیا تھا۔ کسی ملزم کو جیل نہیں بھیجا گیا بلکہ وہ سب کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔ ان کے وکلاء کی طرف سے قید کی سزاؤں کے خلاف اپیل کررہی تھی۔

ایرانی جوڈیشل کونسل کے ترجمان غلام رسول ایجی نے چار مارچ کو انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے کے لیے اکسانے والوں میں چھ شیعہ مذہبی مبلغین کا کردار ہے۔ اس کے علاوہ باسیج فورس اور پاسداران انقاب کی طرف سے بھی سعودی تنصیبات اور سفارت خانے پر بلوائیوں کے حملوں کی ترغیب دی گئی تھی۔ یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ ایرانی صدر نے سعودی سفارت خانے پرحملے میں ملوث ملزمان کی سزا معاف کردی ہے تاہم اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران غلام رسول ایجی نے کہا تھا کہ تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر ایک سال قبل ہونے والی یلغار میں چھ ایرانی مذہبی رہ نماؤں کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو سفارت خانے پر یلغار پر اکسایا تھا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت بعض ایران نواز عناصر کو سزائے موت دیے جانے پر ایران میں سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ شدت پسند بلوائیوں نے جنوری 2016ء کو تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ شرپسندوں نے نہ صرف توڑپھوڑ کی بلکہ سفارتی عملے کو یرغمال بنانے اور انہیں زدو کوب کرنےکی کوشش کی گئی۔ سفارت خانے کی عمارت کو آگ لگا کر تمام ریکارڈ ضائع کردیا۔